سوئی سدرن نے عدم ادائیگی پر پاکستان اسٹیل ملز کو گیس کی فراہمی روک دی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز نے نومبر 2008 سےسوئی سدرن کو ماہانہ گیس بلوں کی ادائیگی میں جزوی طور پر ڈیفالٹ کرنا شروع کر دیا تھا، مارچ 2015 کے بعد سے کوئی بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ سوئی سدرن نے مالی سال 15-2014 میں پاکستان اسٹیل کو گیس کی فراہمی 21 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم کرکے مالی سال 16-2015 میں 02 ایم ایم سی ایف ڈی کر دی تھی۔
سوئی سدرن کی جانب سے مسلسل فالو اپ کے بعد فروری 2020 سے پاکستان اسٹیل نے سوئی سدرن کو بجٹ مختص کرنے / سوئی سدرن کے گیس بلوں کی ادائیگی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے بیل آؤٹ پیکج کے اجرا کے پیش نظر موجودہ ماہانہ ادائیگیاں شروع کر دیں۔
تاہم، کافی عرصہ گزرنے کے بعد فنڈز جاری کیے جا رہے تھے، جس کی وجہ سے سوئی سدرن کو ادائیگیوں میں نمایاں تاخیر کی وجہ سے مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔
وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹیل کی بحالی کے منصوبوں پر کام کرتی رہی ہیں اورسوئی سدرن نے بنیادی طور پر اس پورے عرصے کے دوران پاکستان اسٹیل کو گیس کی فراہمی جاری رکھ کرہمیشہ وفاقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کی.
آخر کار، وفاقی حکومت نے سوئی سدرن کو اپنی رقوم کی ادائیگیوں کے تصفیے کے لیے پاکستان اسٹیل کو اپنی مالی امداد بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
اس طرح سوئی سدرن کے پاس 4 جولائی 2024 کو پاکستان اسٹیل کو گیس کی فراہمی بند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا.
واضح رہے کہ 30 جون 2024 ء تک پاکستان اسٹیل پر کل واجبات 97.697 ارب روپے تھے جن میں 73.4 ارب روپے کا لیٹ پیمنٹ سرچارج (ایل پی ایس) بھی شامل ہے. واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل کی جانب سے جزوی ادائیگیاں نہ کرنے کی وجہ سے 2008 سے واجب الادا اصل رقم جمع ہوتی جارہی ہے.



















