Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب کرلی

وفاق اورچاروں صوبوں میں ترقیاتی فنڈزکے معاملے پرعدالتِ عطمٰی نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب کرلی۔

عدالت نے کہا کہ حالیہ منظورشدہ بجٹ کی سالانہ ترقی پلان سمری فنانس سیکرٹری یا چیف سیکرٹری کے دستخط سے پیش کی جائے۔

سپریم کورٹ نے بلاک مختص کردہ اسکیمزیا امبریلا اسکیمز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں اورکیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم عوامی پیسے کے تحفظ کے تناظرمیں کیس سن رہے ہیں، حکومتیں پیسے ضرور خرچ کریں لیکن شفافیت ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ شفافیت کا مطلب یہ ہے کہ ترقیاتی اسکیمز انفرادی شخصیات کی بنیاد پر نہ چلائی جائیں، ضیاالحق نے اراکین اسمبلی اورسینٹرزکیلئے ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسے دینے کی روایت شروع کی۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پہلے بھی کافی مشکلات ہیں، عوامی فنڈز کا ضیاع نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ منصوبے ضرور بنائیں لیکن سب کچھ آئین کے تحت ہونا چاہیے۔، حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو منصوبے لٹک جاتے ہیں،  ترقیاتی منصوبے انفرادی شخصیات کے تحت نہیں ہونے چاہییں، ہمیں اس سے کوئی سروکارنہیں منصوبے کیا بنائے جا رہے ہیں، شفافیت ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں