سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اعلی عدلیہ ججزکی پارلیمنٹ میں تقاریر کیخلاف درخواست خارج کردی۔
آئینی بینچ نے درخواست گزارمحمد اخترنقوی کی عدم پیروی پردرخواست خارج کی۔ آئینی بینچ نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی لارجربینچ نے کیس کی سماعت کی۔
دوسری طرف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے زیر زمین پانی پر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق ازخود نوٹس کیس سماعت کی ۔
صوبائی لاء افسران کا موقف پنجاب اورخیبرپختواہ نے قانون سازی کرلی ہے، اس پر جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ باقی صوبے بھی قانون سازی کرلیں۔
جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ جب قانون نہیں بنایا جائے گا تو مقدمات بیس بیس سال تک ہی چلتے رہیں گے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنا کام نہیں کیا جاتا پھرکہتے ہیں عدالتیں کام نہیں کرتیں۔
اائینی بینچ نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔
