Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چین میں بغیر ڈرائیور ٹرکوں کا تجربہ، ٹرانسپورٹ میں انقلابی تبدیلی کا آغاز

چین ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑے انقلاب کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ خودکار ٹرک نہ صرف لاگت میں کمی کا باعث بنیں گے بلکہ یہ ماحولیاتی اور سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

تاہم ان کی مکمل قبولیت کے لیے اعتماد، ضوابط اور شفافیت کی سخت ضرورت ہو گی۔

چین نے ٹرانسپورٹ کی دنیا میں نئی پیش رفت کرتے ہوئے ایسے خودکار (ڈرائیور لیس) ٹرکوں کی آزمائش شروع کر دی ہے جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے شاہراہوں پر سفر کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایپل کی خودکار الیکٹرک کار کب متعارف کرائی جائیگی؟

یہ ٹرک چین کے دارالحکومت بیجنگ کو تیانجن کی بندرگاہ سے جوڑنے والی شاہراہ پر آزمائشی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں۔

فی الحال ان ٹرکوں میں ایک سیفٹی ڈرائیور موجود ہوتا ہے جو ہنگامی حالات میں کنٹرول سنبھالتا ہے، مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ جلد یہ ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔

سیفٹی ڈرائیور ہیو کنتیان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انہیں خوف محسوس ہوا، مگر وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی پر اعتماد بڑھا۔ ٹرک کے خودکار نظام کو فعال کرنے کے بعد یہ خود ہی لین بدلتا ہے، ٹریفک سگنلز پر رکتا ہے اور ٹول گیٹس پر بھی ہموار انداز میں کنٹرول سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی پولیس کا انوکھا کارنامہ، میسج فارورڈ کرنے والے کو پیپرلیک کا سرغنہ بنا ڈالا

ڈرائیور لیس ٹرک بنانے والی کمپنی پونی اے آئی کے نائب صدر لی ہینگ یو کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے اور آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مال برداری کے نظام کو تیز کرے گی بلکہ مزدوروں کے اخراجات اور ماحولیاتی مسائل کو بھی کم کرے گی۔

ان کے مطابق، یہ ٹرک 24 گھنٹے مسلسل چل سکتے ہیں، بغیر آرام یا تنخواہ کے، جس سے ترسیلی نظام میں زبردست بہتری آئے گی۔

صنعتی ماہرین کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کا اصل مقصد آپریشنل اخراجات کم کرنا ہے۔ پروفیسر یانگ روگنگ کا کہنا ہے کہ کمپنیاں “ڈرائیور کے خرچے کو صفر” تک لانے کے لیے ان خودکار ٹرکوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: سڈنی ائیرپورٹ پر پاکستانی کھلاڑیوں نے سامان خود ٹرک پر کیوں رکھا؟ وجہ سامنے آگئی 

تاہم، تحفظات بھی موجود ہیں۔ چین میں سیلف ڈرائیونگ گاڑی کے ایک حادثے میں تین طالبعلموں کی ہلاکت نے عوام میں خدشات کو جنم دیا۔

تجزیہ کار چم لی کے مطابق، چینی عوام کو قائل کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا کہ یہ ٹیکنالوجی محفوظ اور فائدہ مند ہے۔

فی الحال یہ ٹرک کھلے عام سڑکوں پر نہیں چل رہے اور ان کا استعمال صرف بندرگاہوں یا صنعتی زونز میں ہو رہا ہے، جہاں محفوظ حدود اور متعین راستے موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ سال میں بھاری بھرکم ٹرک مکمل طور پر خودکار ہو کر ہائی ویز پر رواں دواں ہوں گے۔

مشرقی چین کے انہوئی صوبے کا شہر ہیفئی ڈرائیور لیس ڈیلیوری وینز کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہاں متعدد کمپنیاں، جن میں رینو اے آئی سرفہرست ہے، خودکار وینز کے ذریعے پارسل ڈیلیور کر رہی ہیں۔ ان وینز کو کم لاگت، مسلسل استعمال اور محفوظ کارکردگی کی بنا پر سراہا جا رہا ہے۔

رینو کے صدر گیری ہوانگ کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی اگلے سال آسٹریلیا میں بھی داخل ہونے جا رہی ہے۔

خودکار ٹرکوں کو درپیش تکنیکی چیلنج بھی کم نہیں۔ مشکل سڑکیں، غیر متوقع حالات، خراب موسم، مہنگے سینسرز اور عوامی اعتماد کی کمی جیسے مسائل ابھی حل طلب ہیں۔

پروفیسر یانگ کا کہنا ہے: “ہم انسان انسانی غلطیاں برداشت کر لیتے ہیں، مگر مشینوں سے غلطی کی توقع نہیں کرتے۔ اس لیے ان خودکار نظاموں کو نہایت قابل اعتماد ہونا چاہیے۔”