سائنس دانوں نے ایک جدید ویئرایبل پیچ تیار کیا ہے جو آنکھ میں خودکار طریقے سے دوا پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو خاص طور پر خلا میں موجود خلابازوں کے لیے تیار کیا گیا ہے،جہاں زیرو گریویٹی (بے وزنی) کی وجہ سے آنکھوں میں قطرے ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، یہ ایجاد زمین پر بھی بہت سے لوگوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
اس حیرت انگیز پیچ کو جنوبی کوریا کے ادارے کے اے آئی ایس ٹی اور سیول نیشنل یونیورسٹی بنڈانگ ہسپتال کے محققین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس تحقیق کی قیادت پروفیسر کی ہون جیونگ نے کی ہے۔

یہ پیچ کیسے کام کرتا ہے؟
اس پیچ کو آنکھ کے قریب چہرے پر طبی چپکنے والی ایک تہہ کی مدد سے لگایا جاتا ہے اس کے اندر تین چھوٹے خانے اور باریک راستے دیے گئے ہیں پہلے خانے میں پانی سے بھیگا ہوا کپڑا موجود ہے جبکہ دوسرے خانے میں وٹامن سی اور بیکنگ سوڈا شامل ہیں جو پانی ملنے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا کرتے ہیں اسی طرح تیسرے خانے میں آنکھ کی دوا رکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دردکش دوا کی زائد مقدار کو زائل کرنے والا سمجھدار پیچ تیار
جب صارف پیچ پر انگلی سے دباؤ ڈالتا ہے تو پانی خارج ہو کر دوسرے خانے میں پہنچتا ہے، جہاں گیس بنتی ہے۔ یہ گیس دباؤ پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دوا باریک نالی کے ذریعے آنکھ کے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔
انسانوں پر کیے گئے تجربات کے دوران اس پیچ نے تقریباً اتنی ہی مؤثر مقدار میں دوا پہنچائی جتنی روایتی آئی ڈراپس سے پہنچتی ہےتاہم، ابھی تک اس آلے کو حقیقی زیرو گریویٹی ماحول میں آزمایا نہیں گیا۔
اس پیچ سے خلاباز جو خلا میں آسانی سے آنکھوں میں دوا نہیں ڈال سکتے، پارکنسنز کے مریض جنہیں ہاتھوں میں کپکپی کی وجہ سے قطرے ڈالنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے اس کے علاوہ ایسے افراد جنہیں خود اپنی آنکھ میں قطرے ڈالنے میں مشکل پیش آتی ہے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔