Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کمپنی کے مالک نے ملازمین کو بونس دینے کے لیے انوکھی شرط رکھ دی

جی ہاں ایک کمپنی نے اپنے ملازمین کو جسمانی مشقت اور ورزش کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک تحریک دی ہے کہ اگر وہ بونس چاہتے ہیں تو روزانہ کم از کم دومیل یا سوا تین کلومیٹردوڑیں، اگر وہ اپنا ہدف حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں ان کی تخواہ کے برابر بونس دیا جائے گا۔

چین میں کاغذ بنانے والی ایک فیکٹری نے اپنے ملازمین کے لیے رواں برس ایک عجیب و غریب بونس کا اعلان کیا ہے اوراس کو بونس کو جسمانی ورزش سے منسلک کیا ہے۔

کاغذ بنانے والی ایک کمپنی کا نام گوانگ ڈونگ گونگ پو پیپر ہے اور یہ چین کے صوبے گوانگ ڈونگ میں واقع ہے جس میں سیکڑوں ملازمین کام کرتے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے ملازمین کو کہا گیا کہ اگر وہ روزانہ دومیل یا سوا تین کلومیٹر دوڑتے ہیں تو ان کو بونس دیا جائے گا۔

 کمپنی نے اپنے سینکڑوں ملازمین سے کہا ہے کہ اگر وہ ایک مہینے کے اندرکسی بی طرح سے پچاس کلومیٹر دوڑ لگاتے ہیں تو انہیں پوری مہینے کی تنخواہ کے برابر بونس دیا جائے گا۔ لیکن دل چھوٹا نہ کریں اگر ایسے ملازمین جوصرف چالیس کلومیٹر بھی دوڑتے ہیں تو انہیں ان کی تنخواہ کا  پچاس فیصد جبکہ تیس کلومیٹر دوڑنے والوں کو تیس فیصد بونس دیا جائے گا، بونس کو دوڑنے سے جوڑنے کی وجہ یہ ہے کہ تاکہ وہ صحت مند اور تنرست رہیں اور اپنی صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہوسکیں۔

کمپنی کے مالک لین زییونگ نے کہا کہ وہ مسلسل تین سال سے اپنے ملازمین کو یہ تحریک دے رہیں ہیں کہ وہ اپنی  صحت کا خیال رکھیں اور وہ چاہتے ہیں ان کا عملہ طویل عمر پائیں، خوش اور تندرست رہیں اور صحت کے حصول کے لیے جسمانی ورزش یا مشقت سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ روزانہ دو کلومیٹر دوڑنے کو کو بونس کے جوڑا گیا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے کہ آیا ملازمین واقعی اپنا ہدف پورا کرتے ہیں تمام ملازمین کے فون کو ایک ایپ سے جوڑا گیا ہے اور وہ ایپ یہ اندازہ لگاتی ہے کہ کون سے ملازم نے کس رفتار سے اور کتنا سفر طے کیا ہے اور کتنی ماؤنٹین بائیک چلائی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کے مالک بہت خوش ہیں کیونکہ سو فیصد ملازمین نے کسی نہ کسی طرح اپنا ہدف پورا کر کے بونس حاصل کیا ہے۔ کمپنی کے مالک بے حد مسرور ہیں اور ملازمین پر بونس کی بارش بھی جاری ہے۔

دوسری جانب کمپنی کے ملازمین نے بھی اسے خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ اس طرح ایک تیر کے دوشکار مصداق وہ اپنی صحت کا خیال بھی رکھ سکتے ہیں اور دوسری طرف مالیاتی فوائد بھی سمیٹ سکتے ہیں۔

دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اس کا چرچا کیا ہےتاہم سوشل میڈیا صارفین نے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیا دیکھنایہ ہے کہ یہ کمپنی اپنے ملازمین کو بیماری زچگی اور بچوں کی بیماری اور دوسری جو صحت کی ضروریات ہیں ان کا خیال رکھتی ہے کہ نہیں۔

Exit mobile version