صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انشورنس کمپنی کو منافع سمیت 20 لاکھ روپے شہری کو لوٹانے کی ہدایت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ نجی انشورنس کمپنی پالیسی ہولڈر کو 20 لاکھ روپے 6 سال کے منافع کے ساتھ واپس کرے ، صارف کو صرف ایک پالیسی کی بجائے بھاری سالانہ پریمیم پر متعدد انشورنس پالیسیاں جاری کی گئیں۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ تکافل پلان 2015 میں صارف کو غلط طرز پر فروخت کیا گیا ، کمپنی نے اتنے عرصے میں رقم کاروبار میں لگا کر مناسب منافع کمایا ہوگا۔
صدر مملکت نے یہ بھی کہا کہ بینک نمائندے نے تکافل پلان بارے صارف کو غلط معلومات دے کر راغب کیا، شکایت کنندہ کو غلط معلومات دی گئی کہ تکافل پلان پانچ سال کے لیے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صارف نے 11 سال کے لیے چار انشورنس پالیسیوں کا کبھی انتخاب نہیں کیا، انشورنس کمپنی نے 20 لاکھ روپے لیے سرمایہ کاری کی اور منافع کمایا، کوئی شخص غیر منصفانہ طور پر دوسروں کے وسائل پر خود کو امیر نہیں کرسکتا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی نے منافع کمایا مگر غیر منصفانہ طور پر صارف کو ادائیگی سے انکار کیا، شکایت کنندہ کو منافع میں اس کے حصے سے محروم کرنا ناانصافی ہوگی لہذا انصاف کا تقاضا ہے کہ کمپنی اصل رقم منافع کے ساتھ واپس کرے۔


















