نگراں وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے کہا ہے کہ بڑے نقصانات سے بچنے کیلئے ریاست کو کچھ اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے اسلام آباد انتظامیہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ23روز سے پریس کلب پر مظاہرین موجود تھے، پر امن احتجاج کئی روز سے جاری تھا،آج وزیر اعظم کا پیغام لے کر مظاہرین کے پاس گئے تھے، مظاہرین سے کہا گیا تھا کہ مظاہرے کوکسی علیحدہ جگہ منتقل کرلیں۔
فواد حسن فواد نے کہا کہ جولوگ بلوچستان سے آئے ان کی جانب سے کوئی شرانگیزی نہیں ہوئی، شرپسندوں نے چہرے ڈھانپ کر پولیس پر پتھراؤ کیا، مظاہرین کو بتایا گیا کہ ہمیں ان کی سیکیورٹی کا بھی خیال ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو فوری طورپر رہا کر دیا گیا ہے اور جن مظاہرین کی شناخت ہوگئی ہے انہیں بھی رہا کر دیا گیا ہے، ایف آئی آر میں نامزد لوگوں کا فیصلہ عدالت کے پاس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ بھی لی گئی ہے، وزیراعظم سے درخواست کی گئی کہ اس معاملے کو حل کیا جائے، پولیس اور انتظامیہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی تشدد ہو۔
نگراں وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے کہا کہ انٹیلی جنس کے پاس خاص رپورٹس ہیں اس پر عمل ضروری ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر رپوٹ کل پیش کی جائے گی۔


















