Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سیاسی منظرنامہ تبدیل؛ شاہد خاقان عباسی نے بڑا اعلان کردیا

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بڑا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس الیکشن کو بے مقصد سمجھتا ہوں اور ہم نے کوشش نہیں کی کہ الیکشن سے مقصد نکالا جائے۔ سیاسی رہنماؤں کی ناکامی ہے کہ وہ ملک کے لیے راستے کا تعین نہیں کر سکے۔

   انہوں نے کہا کہ مری کے حلقے کے لیے پارٹی کو مشورہ دیا تھا کہ کارکن کو ٹکٹ دیا جائے اب مری حلقہ میں کارکن کو ٹکٹ ملا یا نہیں اس کا فیصلہ عوام کریں گے اور جس سیاست کے ساتھ ن لیگ کھڑی ہے میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ علاقے کے لوگوں نے مشورہ دیا کہ الیکشن لڑوں لیکن الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ میرا ذاتی ہے جس کا اظہار 6 ماہ پہلے کر دیا تھا تاہم نواز شریف جب بھی بلاتے ہیں میں جاتا ہوں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس سیاست کا مقصد اقتدار کا حصول ہے اور ہر جماعت اقتدار میں رہی ہے اس کی سوچ کے بارے میں عوام کو پتہ ہے۔ کہہ رہے ہیں کہ بجلی مفت دے دوں گا مگر ایک یونٹ نہیں دے سکتے اور آپ عوام کو جا کر کیا سوچ دیں گے کہ حکومت آنے کے بعد کیا کروں گا۔ ہر آدمی تسلیم کرتا ہے کہ نیب نے ملک کو مفلوج کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ منشور میں بھی باتیں نہیں لکھ سکتے تو پھر الیکشن کو چھوڑیں اور کیا جیلوں میں ڈالنے اور گالیاں دینے سے ملک کو کوئی فائدہ ہوا؟ ایک سال سے کہہ رہا ہوں کہ سب جماعتیں مذاکرات کے لیے بیٹھیں اور اگر مل کر نہیں بیٹھیں گے تو مسائل کیسے حل کریں گے ؟ سیاسی جماعتیں اپنی کابینہ تو عوام کے سامنے رکھیں اور ہر جماعت بتائے کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد کس کس کو وزیر بنائے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے اتحاد ہو گا تو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑے گی۔ ہم پارٹی سے کچھ نہیں مانگ رہے جبکہ مظاہر نقوی کے خلاف چارجز تھے تو انہوں نے سمجھا کہ استعفیٰ دے دوں اور کچھ ججز کا دباؤ بھی ہوتا ہے کہ باتیں منظر عام پرآنے سے بہتر ہے استعفیٰ دے دیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن سینئر جج تھے پتہ نہیں انہوں نے کیوں استعفیٰ دے دیا اور اگر جسٹس اعجاز الاحسن نے اصولوں پر استعفیٰ دیا ہے تو وہ بتانے چاہیے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ الیکشن میں جب بھی ابہام پیدا ہو گا تو اس کا نقصان ہو گا اور بلے کا نشان پارٹی کا ہے اسے چلنے دیں جبکہ الیکشن لڑنے کا اختیار آئین دیتا ہے اور ووٹ ڈالنے کا بھی آئین اختیار دیتا ہے۔ آپ کیسے جج کر سکتے ہیں کہ انٹرا پارٹی الیکشن کیسے ہوئے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں سیاست دانوں کو جیل بھیجنے کا قائل نہیں ہوں اور 9 مئی کو اتنے ماہ ہو گئے ہیں اس کی تحقیقات حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت 9 مئی کی تحقیقات کرانے میں ناکام رہی ہے۔ پی ڈی ایم کو 9 مئی کو پراسیکیوٹ کرنا چاہیے تھا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ فیض آباد دھرنے میں کہا ہے بطور وزیراعظم کوئی کوتاہی تھی تو تیار ہوں اور اگر اس وقت ہماری حکومت نہیں تھی تو خواجہ آصف وزیر خارجہ کس کے تھے۔ حکومت کابینہ سے چلتی ہے وزیر اعظم کے پاس کل اختیار نہیں ہوتے اور میرے اوپر بطور وزیر اعظم کوئی دباؤ نہیں تھا تمام فیصلے مرضی سے کیے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version