Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خواتین پر ہر قسم کے تشدد کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے بین الاقوامی دن پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو خودمختار بنانے اور ان کی حفاظت، وقار اور حقوق کے تحفظ کے لیے مزید کام کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بناکر ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک ایسا معاشرہ بنانے کے لیے پرعزم ہے جہاں خوف، تفریق اور تشدد کی کوئی جگہ نہ ہو، صنفی بنیاد پر تشدد کے پھیلاؤ پر تشویش ہے، اسباب کو جامع قانون سازی، سماجی اور ثقافتی اصلاحات کے ذریعے دور کرنا ہوں گے۔

انکا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ایک منصفانہ و مساوی معاشرے کے قیام میں بڑی رکاوٹ ہے، ہمیں اس کے خاتمے کے لیے ہر پہلو سے عزم کرنا ہوگا، چاہے یہ گھروں میں ہو، کام کی جگہوں پر ہو یا عوامی مقامات پر ہو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک میں پہلی بار خواتین کو وزیر اعظم، اسپیکر، وزراء جیسے عہدوں پر منتخب اور ججز جیسے منصبوں پر مقرر کیا، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ع کے آئین کے ذریعے صنفی مساوات کی بنیاد رکھی۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہمارا آئین خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی شرکت کو فروغ دیتا ہے، شہید بھٹو نے خواتین کی تعلیم، ان کو بااختیار بنانے اور ان کے تحفظ پر توجہ دے کر پاکستانی خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا کیے۔

انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو خواتین کے حقوق کی ایک ورلڈ آئیکون ہیں، بی بی شہید نے خواتین کے لیے علحیدہ پولیس اسٹیشنز، فرسٹ ویمن بینک، اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام جیسے ادارے قائم کیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ایسےاقدامات نے خواتین کے لیے بے شمار مواقع پیدا کیے، ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹوکے مشن کو جاری رکھیں گے، تاکہ ایک ایسا معاشرہ بنایا جا سکے جہاں خواتین محفوظ، باوقار اور ترقی میں برابر کی شراکت دار ہوں۔

انکا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کی خواتین کی ترقی و بہبود کے لیے اقدامات بھی تاریخی ہیں، صدر زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام متعارف کرایا جو غربت کے خاتمے کے لیے ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے خواتین کسانوں کو زمین فراہم کی، سیلاب سے متاثرہ دو ملین سے زائد خواتین کو رہائشی پلاٹ دیے گئے، پی پی پی کی صوبائی حکومت نے مختلف تجارتوں میں خواتین کو اپنے کاروبار چلانے کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے، آسان قرضہ اسکیم کی 97 فیصد خواتین نے قرضے واپس کیے اور اپنے کاروبار کامیابی سے چلائے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ سندھ حکومت کے قانونسازی کے حوالے سے اقدامات بھی قابل تعریف ہیں، حکومتِ سندھ نے گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ ایکٹ 2013 جیسے قوانین بنائے ہیں، خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے سے تحفظ ایکٹ اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 بھی ایسے اقدام میں شامل ہیں، ان قوانین کے مؤثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا تاکہ خواتین کے حقوق کا حقیقی تحفظ ممکن ہو سکے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے جو اجتماعی جدوجہد کا متقاضی ہے، مل کر ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہر عورت خوف اور عدم مساوات سے آزاد زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تشدد کی متاثرہ خواتین کو انصاف کی فراہمی اور متاثرین کو بااختیار بنانے کے لیے مضبوط مددگار نظام قائم کرنا ہوگا، آج اِس دن کو شعور اجاگر کرنے، متاثرین کی حمایت کرنے اور صنفی مساوات کو مشترکہ ذمہ داری کے طور پر فروغ دینے کے عزم کے ساتھ منایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version