Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد ہائیکورٹ کا 27 ستمبر احتجاج کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری

عوامی عہدہ رکھنے والا شخص اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ نہیں کرسکتا، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر احتجاج کے خلاف درخواست پر چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹادی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت، رہنما یا صوبائی حکومت کو اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں جب کہ عوامی عہدہ رکھنے والا شخص بھی اسلام آباد کی شاہراہوں پر قبضہ نہیں کرسکتا۔

فیصلے کے مطابق عوامی عہدہ رکھنے والا شخص اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ نہیں کرسکتا جب کہ سیاسی رہنماؤں کو انٹرچینجز اور ٹول پلازوں پر قبضے کا اختیار بھی نہیں۔

اسلام آباد کی جانب آنے والے راستوں میں رکاوٹ ڈالنا شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، کسی مارچ، جلوس یا ریلی کے ذریعے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہیں کی جانی چاہیے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں تجارت اور کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جب کہ احتجاج یا مارچ کے باعث تعلیمی اداروں تک شہریوں کی رسائی بھی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ طبی سہولتوں تک رسائی متاثر کرنا بھی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جب کہ اسلام آباد میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔

تحریری فیصلے کے مطابق صوبائی حکومتیں یقینی بنائیں کہ سرکاری وسائل اسلام آباد آنے والے مارچ یا ریلی میں استعمال نہ ہوں اور سرکاری فنڈز کو بھی اسلام آباد کی جانب مارچ یا جلوس کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ کوئی سرکاری افسر اسلام آباد آنے والے مارچ، جلوس یا ریلی میں مدد یا سہولت فراہم نہیں کرے گا جب کہ سرکاری گاڑیاں، مشینری اور دیگر سرکاری سامان مظاہرین کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔

فیصلے میں سرکاری ملازمین کو اسلام آباد آنے والے مارچ یا ریلی میں شرکت پر مجبور کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے جب کہ سرکاری ملازمین کو مارچ میں شرکت کے لیے آمادہ یا کسی بھی طریقے سے پابند کرنے سے بھی روک دیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صوبائی حکومتوں کو سرکاری افسران کو اسلام آباد آنے والے مارچ میں معاونت سے روکنے کی پابندی عائد کی ہے۔ عدالت کے مطابق اگر کسی افسر کو مارچ میں معاونت پر مجبور کیا جائے تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دے گا۔

تحریری فیصلے میں چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جیز کو افسران کی شکایات کے لیے رابطے کا طریقہ کار بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ سرکاری افسران کسی سیاسی رہنما یا عوامی عہدیدار کی جانب سے جبری یا ترغیب کی اطلاع دے سکیں گے جب کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی میں ملوث شخص آئین اور قانون کے تحت نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق عوامی عہدہ رکھنے والے کی جانب سے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی آئینی حلف کی خلاف ورزی ہوگی اور عوامی عہدہ رکھنے والا شخص آئینی حلف کی خلاف ورزی پر آئین و قانون کے تحت نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد میں کسی کو دوسروں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

تحریری فیصلے میں اسلام آباد انتظامیہ کو شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور صوبائی حکومتوں و متعلقہ حکام کو عدالتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اسلام آباد آنے والے مارچ، جلوس یا ریلی سے شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہونے دیے جائیں اور آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم اور طبی سہولتوں تک رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صوبائی حکومتوں کو سرکاری مشینری کے سیاسی استعمال سے روک دیا اور سرکاری وسائل کو اسلام آباد آنے والے سیاسی مارچ کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی۔

عدالت نے سرکاری ملازمین کو سیاسی مارچ میں شرکت کے لیے مجبور کرنے سے بھی روک دیا اور چیف سیکریٹریز اور آئی جی پولیس کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔

تحریری فیصلے کے مطابق شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر ہوکر شہریوں کے راستے بند کرنے کا اختیار نہیں۔

عدالت نے سیاسی سرگرمیوں کے نام پر اسلام آباد میں شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنے سے روکتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو اسلام آباد آنے والے مارچوں میں سرکاری معاونت روکنے کی ہدایت بھی کی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکاری افسران کو سیاسی دباؤ یا جبر سے تحفظ فراہم کرنے کا طریقہ کار بنانے کا بھی حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version