فنانس ڈویژن کی رپورٹ نے سرکاری اداروں کی مالی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کے مجموعی منافع میں 7 فیصد کمی ہوئی اور یہ 457.2 ارب روپے سے گھٹ کر 423.3 ارب روپے رہ گیا، جبکہ خالص ایڈجسٹڈ منافع 30 فیصد کمی کے بعد صرف 80.5 ارب روپے رہا۔
رپورٹ کے مطابق 23 سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 342.8 ارب روپے خسارے کا سامنا رہا۔ ان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی 124.7 ارب روپے کے خسارے کے ساتھ سرفہرست رہی، جبکہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 35.3 ارب، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کو 34.9 ارب، پاکستان ریلوے کو 29.4 ارب، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 23.7 ارب، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو 21.5 ارب اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 18 ارب روپے خسارہ ہوا۔
سرکاری اداروں کے مجموعی اثاثوں میں بھی 2 فیصد کمی ہوئی اور یہ 37.1 ٹریلین روپے رہ گئے، جبکہ مجموعی ایکویٹی 3 فیصد کمی کے بعد 6.4 ٹریلین روپے رہی۔ اس کے برعکس حکومت کی جانب سے مالی معاونت میں 31 فیصد اضافہ ہوا اور سرکاری اداروں کو 804 ارب روپے فراہم کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں میں ایکویٹی انجیکشن 190 فیصد بڑھ کر 224.6 ارب روپے، حکومتی قرضے 79 فیصد اضافے سے 164.8 ارب روپے اور سبسڈیز 332.2 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ یعنی اداروں کی کمزور کارکردگی کا مالی بوجھ مسلسل حکومتی خزانے پر منتقل ہورہا ہے۔
سرکاری اداروں نے حکومت کو مجموعی طور پر 839 ارب روپے جمع کرائے، تاہم ان کی مالیاتی ادائیگیوں میں 19 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ نان ٹیکس آمدن 35 فیصد کم ہوکر 399.6 ارب روپے رہ گئی، سودی آمدن میں 29 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ٹیکس ریونیو میں 10 فیصد اور ڈیویڈنڈ میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ڈیویڈنڈ 112.8 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کا ایک اہم اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سرکاری اداروں کا خالص مالیاتی بہاؤ 427 ارب روپے سے کم ہوکر صرف 35.8 ارب روپے رہ گیا۔ فنانس ڈویژن کے اعدادوشمار کے مطابق سرکاری اداروں کو دی جانے والی مالی معاونت میں ٹیکس آمدن کا تقریباً 11 فیصد دوبارہ واپس منتقل ہوا، جس سے ان اداروں کے مالیاتی دباؤ کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں ڈسکوز کی ناقص کارکردگی نے صورتحال مزید پیچیدہ کردی۔ ڈسکوز کی کمزور کارکردگی سے گردشی قرضے کے بہاؤ میں 112 ارب روپے اضافہ ہوا، جبکہ انڈر ریکوریز کے باعث مزید 31 ارب روپے کا مالی بوجھ پڑا۔ یوں بجلی کے شعبے میں صرف چھ ماہ کے دوران گردشی قرضے کا بہاؤ 143 ارب روپے بڑھ گیا۔
سرکاری اداروں کا مجموعی قرض 14 فیصد اضافے سے 10.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ غیر ملکی قرضوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.58 ٹریلین روپے ہوگئے، جبکہ بینک قرضے 10 فیصد بڑھ کر 3.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ غیر فنڈ شدہ پنشن واجبات بھی 11 فیصد اضافے کے بعد 1.98 ٹریلین روپے ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کے بجلی شعبے کے گردشی قرضے میں 28 فیصد کمی ہوئی، تاہم گیس شعبے کا گردشی قرضہ تقریباً 2 ٹریلین روپے پر برقرار رہا۔ آئی ایف آر ایس بنیاد پر مجموعی گردشی قرضہ 14 فیصد کمی سے 3.38 ٹریلین روپے رہا، جبکہ مجموعی بنیاد پر گردشی قرضہ تقریباً 4.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔
شعبہ وار کارکردگی میں آئل اینڈ گیس سیکٹر 75 فیصد اسکور کے ساتھ سرفہرست رہا، مالیاتی شعبہ 66 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، انفراسٹرکچر سیکٹر نے 55 فیصد اسکور حاصل کیا، جبکہ پاور سیکٹر صرف 46 فیصد اسکور کے ساتھ سب سے کمزور شعبہ قرار پایا۔
فنانس ڈویژن کے مطابق ڈسکوز میں تکنیکی نقصانات اور کم وصولیوں کے باعث گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سرکاری اداروں کے مجموعی پورٹ فولیو کا ریٹرن آن ایکویٹی صرف 1.25 فیصد ہے، جبکہ مجموعی لیوریج 6 گنا سے زیادہ ہونے کے باعث مالیاتی خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
رپورٹ مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض سرکاری اداروں کی کمزور کارکردگی، بڑھتے قرض، مسلسل حکومتی مالی معاونت اور توانائی کے شعبے کے نقصانات ملکی مالیاتی استحکام کے لیے بڑا خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ فنانس ڈویژن نے سرکاری اداروں میں آپریشنل اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے اور کارکردگی میں بہتری لانے پر زور دیا ہے۔



















