اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن کی صورتحال سے متعلق ماہانہ اجلاس میں پاکستان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے اور حوثی ملیشیا کے حملے فوری بند کرانے پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امن و سلامتی کا قیام و تحفظ ہم سب کا مشترکہ ہدف ہے، سیکریٹری جنرل، خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ اور سیکیورٹی کونسل کی ٹیم کے تعاون پر مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تعینات ہزاروں پاک امن اہلکاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، ہم نے مل کر بہت کچھ حاصل کیا، تاہم کئی چیلنجز پر مسلسل کاوشوں کی ضرورت ہے۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ یمن کا تنازعے کی دلدل میں مزید دھنستے چلے جانا انتہائی تشویش ناک ہے، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے اور تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات فوری توجہ کے متقاضی ہیں، پاکستان سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بجلی و بنیادی ڈھانچے پر حملے شرمناک ہیں، شاہ خالد اور ابہا ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں، حوثی ملیشیا غیر ذمہ دارانہ حملے فوری بند کرے، یہ علاقائی امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے، پاکستان برادر مملکت سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے، سعودی عرب کے اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں، سعودی عرب کو درپیش خطرات کے مقابلے میں پاکستان شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
پاکستان نے یمن کی خودمختاری، سلامتی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب اور مغربی ساحلی علاقوں پر حوثی کارروائیاں بحری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، تجارتی جہاز رانی پر حملے بند کر کے بین الاقوامی قانون کے مطابق جہاز رانی کی آزادی یقینی بنائی جائے، کشیدگی میں کمی اور جنگی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جائیں، اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں جامع اور یمنیوں کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل بحال کیا جائے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ تعز اور عدن ایئرپورٹ پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ شہری آبادی اور انفراسٹرکچر شدید خطرے میں ہیں، یمن میں محفوظ، تیز رفتار اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی ناگزیر ہے۔
انہوں ںے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں اور سفارتی عملے کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، سلامتی کونسل حوثی حملوں کو روکنے اور سیاسی تصفیے کی بحالی کے لیے یکسوئی سے اقدامات کرے، پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور متحد یمن کے قیام کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔


















