اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت رواں مالی سال 4 فیصد سے زیادہ ترقی کرے گی جبکہ حکومت 5 سے 6 سرکاری اداروں کی نجکاری کے ذریعے ایک ارب ڈالر سے زائد حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبہ بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے، رواں مالی سال معاشی ترقی 4 فیصد سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، حکومت مہنگائی پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور بلند عالمی تیل قیمتوں سے خطرات لاحق ہیں، پاکستان میں ایندھن کی مناسب مقدار دستیاب ہے، ملک میں فیول شارٹیج سے کامیابی سے بچاؤ کیا گیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ امریکا کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسلٹی پر مذاکرات جاری ہیں، 10 ارب ڈالر کی امریکی مالی سہولت پاکستان کے لیے بڑی مدد ثابت ہوگی، امریکی مالی سہولت پر مذاکرات کی تکمیل کے لیے کوئی حتمی مدت نہیں دے سکتا، امریکی مالی سہولت نہ ملنے کی صورت میں بھی پاکستان کی مارکیٹ تک رسائی متاثر نہیں ہوگی۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی فنانسنگ ملنے کی توقع ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اور موسمیاتی پروگرام کے تحت مالی معاونت متوقع ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان میں نجکاری کے لیے تقریباً 12 سرکاری ادارے پائپ لائن میں شامل ہیں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز آؤٹ سورس کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں، حکومت نجی شعبے کو ملکی معیشت میں قائدانہ کردار دینا چاہتی ہے۔
انہوں نے پاکستان میں نجکاری کا عمل آئی ایم ایف کے ساتھ اصلاحاتی وعدوں پر عمل درآمد کا اہم امتحان قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی معیشت کو بیرونی فنانسنگ، زرمبادلہ ذخائر اور قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے مسلسل مالی معاونت درکار ہے۔
















