لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2025-26 کے کرکٹ سیزن کا تفصیلی ڈومیسٹک کیلنڈر جاری کر دیا ہے جس میں قائداعظم ٹرافی، حنیف محمد ٹرافی، نیشنل ٹی ٹوئنٹی اور دیگر اہم ٹورنامنٹس شامل ہیں۔
سیزن کا آغاز 15 اگست سے حنیف محمد ٹرافی سے ہوگا، جو کوئٹہ اور کراچی میں منعقد ہوگی، اس ٹرافی میں 12 ٹیمیں حصہ لیں گی اور ٹاپ دو ٹیمیں قائداعظم ٹرافی کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
قائداعظم ٹرافی 22 ستمبر سے 7 نومبر تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں کھیلی جائے گی جس میں 8 ٹیمیں اور 29 میچز شامل ہوں گے، جو لیگ فارمیٹ کے تحت ہوں گے۔
قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ یکم سے 12 مارچ تک فیصل آباد میں منعقد ہوگا، جس میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ بھی متعارف کروایا گیا ہے، اس کوالیفائنگ راؤنڈ میں دس ٹیمیں شرکت کریں گی، جن میں سے ٹاپ دو ٹیمیں سپر 10 مرحلے میں شامل ہوں گی۔
سپر 10 میں براہِ راست شامل ٹیموں میں کراچی وائٹس، لاہور وائٹس، پشاور، کراچی بلیوز، سیالکوٹ، اسلام آباد اور فیصل آباد شامل ہیں۔
اسی کے ساتھ انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 ریجنل ٹورنامنٹس بھی سیزن کے شیڈول میں شامل ہیں تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مزید برآں چار ڈیپارٹمنٹل ٹورنامنٹس پریذیڈنٹ ٹرافی، پریذیڈنٹ کپ، گریڈ II اور گریڈ III بھی اس سیزن کا حصہ ہوں گے، جو ملک بھر میں کرکٹ کے معیار کو بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد سید نے کہا کہ 2025-26 کا ڈومیسٹک سٹرکچر میرٹ، مواقع اور مقابلے کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قائداعظم ٹرافی اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں کوالیفائر سسٹم کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ہر میچ کی اہمیت بڑھائی جا سکے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر انداز میں پرکھا جا سکے۔
سمیر احمد نے مزید کہا کہ حنیف محمد ٹرافی 12 ریجنز کے لیے خود کو منوانے کا سنہری موقع ہے اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کا سپر 10 فارمیٹ معیاری اور سنسنی خیز کرکٹ کو فروغ دے گا، ہمارا مقصد کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کی نشاندہی اور مستقبل کے عالمی اسٹارز تیار کرنا ہے۔
دوسری جانب ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز عبداللہ خرم نیازی نے کہا کہ ریجنل اور ڈیپارٹمنٹل کرکٹ دونوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے، انڈر 15، 17 اور 19 کے ٹورنامنٹس نوجوان ٹیلنٹ کو نیا پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حنیف محمد ٹرافی کے نمایاں کھلاڑی قائداعظم ٹرافی میں گیسٹ پلیئر کے طور پر کھیل سکیں گے اور ان کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کنٹریکٹس میں شامل کیا جائے گا جس سے ان کی کارکردگی مزید نکھرے گی۔


















