پاکستانی ٹیم کی انگلینڈ کے ہاتھوں تیسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد کپتان بابر اعظم نے ٹیم کمبی نیشن اور پچ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا تھا کہ ٹیم کو ایک اضافی اسپنر کی ضرورت تھی۔
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ پچ پر گھاس موجود تھی، اسی وجہ سے پاکستان نے تین فاسٹ بولرز اور ایک آل راؤنڈر کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم شکست کے بعد کپتان نے تسلیم کیا کہ ٹیم کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے ان سے سیکھنا ہوگا۔
رضا اللہ کی بیٹنگ کے حوالے سے بابر اعظم نے کہا کہ پوری ٹیم نے ان کی اننگز کو بھرپور انداز میں سراہا۔ کپتان نے بتایا کہ انہیں رضا اللہ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں، صرف اتنا سنا تھا کہ انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سنچری اسکور کر رکھی ہے۔
انگلینڈ نے پاکستان کو تیسرے ٹیسٹ میں شکست دے کر تین میچز کی سیریز 3-0 سے اپنے نام کرلی۔ یہ انگلینڈ کی اپنی سرزمین پر پاکستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز وائٹ واش فتح ہے۔
پاکستان نے انگلینڈ کو جیت کے لیے 130 رنز کا ہدف دیا تھا، جو میزبان ٹیم نے صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ جو روٹ نے 62 رنز بنائے جبکہ جارڈن کاکس 59 رنز پر ناقابل شکست رہے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے دونوں وکٹیں حاصل کیں۔
تیسرے ٹیسٹ میں ڈین لارنس کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا، جبکہ محمد عباس اور اولی رابنسن کو مشترکہ طور پر پلیئرز آف دی سیریز کا اعزاز دیا گیا۔
سیریز میں پاکستان کی 0-3 شکست کے بعد پچ، ٹیم کمبی نیشن اور اسپن کے شعبے میں حکمت عملی پر سوالات مزید شدت اختیار کرگئے ہیں، جبکہ بابر اعظم کا اضافی اسپنر نہ کھلانے کا فیصلہ بھی تنقید کی زد میں ہے۔




















