اگر آپ کسی ایسے پروجیکٹ پر کام کر رہیں ہیں جہاں ہلکے اور بھاری وزن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہوتو ایک ایسی مشین کی ضرورت ہوتی ہے جو ہرطرح کے وزن کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہو تاہم سائنسدانوں نے اس طرح کا ایک گریپر تیار کر لیاہے۔
نارتھ کیرولینا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک نیا روبوٹک گرفت کرنے والا آلہ تیار کیا ہے جس میں کاغذ کو بطورگریپر استعمال کیا گیاہے۔
یہ نیا تیار کردہ آلہ اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ اس سے پانی کا ایک قطرہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے اور 6.4 کلوگرام وزن بھی، جبکہ اس کے ساتھ یہ کسی انسانی ہاتھ کی طرح کپڑے کو تہہ کرنے کی بھی مہارت رکھتا ہے، اور مائیکرو فلم لینے کے لیے بھی کافی حد تک درست ہے کیونکہ یہ انسانی بالوں کی نسبت تقریباً 20 گنا پتلاہے۔
واضح رہے کہ سائنسدانوں اسے مینوفیکچرنگ ایپلی کیشنز کے علاوہ اس ڈیوائس کو ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی منسلک کردیا ہے جو مشینی بازو کو برقی سگنلز کے ذریعے ریگولیٹ کرنے کے قابل بناتا ہے، اس طرح یہ روبوٹک ہاتھ کئی طرح کے کام انجام دے سکتا ہے۔

اس آلے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسے نازک چیز سے لے کر بھاری وزن کو بے حد آسانی سے اٹھایا جاسکتا ہے۔
روبوٹک گریپرز کی طاقت کو عام طور پر پے لوڈ سے وزن کے تناسب میں ماپا جاتا ہے۔ ہمارے گریپرز کا وزن 0.4 گرام ہے اور وہ 6.4 کلو گرام تک اٹھا سکتا ہے ۔ یہ تقریباً 16,000 کا پے لوڈ سے وزن کا تناسب ہے۔
نئی ٹکنالوجی کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کی کام کرنے کی خصوصیات بنیادی طور پر اس کے ساختی ڈیزائن کے ذریعہ کارفرما ہوتی ہیں بجائے اس کے کہ ان مواد کے ذریعہ جو گریپرز کو بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ بایوڈیگریڈیبل مواد، جیسے مضبوط پودوں کے پتوں سے گریپرز بنا سکتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان ایپلی کیشنز کے لیے مفید ہو سکتا ہے جہاں آپ صرف ایک محدود مدت کے لیے گریپرز استعمال کرنا چاہیں گے، جیسے کہ خوراک یا بائیو میڈیکل مواد کو سنبھالتے وقت۔ مثال کے طور پر، گریپرز کو تیز طبی فضلہ، جیسے سوئیوں کو سنبھالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، سائنسدانوں نے ایک myoelectric مصنوعی ہاتھ کے ساتھ گرفت کے آلے کو جوڑ دیا، اس طرح یہ ایک ہاتھ کی طرح کام انجام دیتا ہے۔
اس گرپر نے ان کاموں کے لیے بہتر فنکشن فراہم کیا جو موجودہ مصنوعی آلات کے استعمال سے انجام دینا مشکل ہیں، جیسے کہ مخصوص قسم کے زپوں کو زپ کرنا، سکہ اٹھانا وغیرہ۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں