آرٹیمس دوم مشن کے چاروں خلاباز زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی طرف بڑھ گئے ہیں۔ اوریون خلائی جہاز نے اپنا مرکزی انجن پانچ منٹ 50 سیکنڈ تک چلایا جسے ناسا نے کامیاب قرار دیا۔
یہ پہلا موقع ہے جب 1972 کے بعد انسان زمین کے مدار سے باہر سفر کررہے ہیں۔ کینیڈا کے خلاباز جیریمی ہینسن نے کہا کہ عملہ چاند کی طرف جاتے ہوئے ’’بہت اچھا محسوس کررہا ہے‘‘۔
اوریون اب ایک لمبے چکر میں چاند کے پار والے حصے تک جائے گا اور پھر واپس آئے گا۔ ناسا کے مطابق یہ عملہ زمین سے 4,700 میل سے زیادہ دور تک جائے گا جو ممکنہ طور پر اپالو 13 کا ریکارڈ توڑ دے گا۔
کمانڈر ریڈ وائزمین نے بتایا کہ زمین سے دور ہوتے ہوئے انہیں ایک شاندار نظارہ دیکھنے کو ملا جس نے ہمیں چونکا دیا۔
انجن کو چلانے کے بعد بھی اگر کوئی سنگین خرابی ہوتی ہے تو خلائی جہاز واپس پلٹ سکتا ہے تاہم 36 گھنٹے بعد چاند کے گرد چکر لگاکر واپس آنا ہی تیز ترین راستہ ہوگا۔
مشن کے چھٹے روز جب اوریون چاند سے آگے بڑھے گا تو خلابازوں کو مکمل سورج گرہن دکھائی دے گا۔ چاند سورج کے سامنے آجائے گا اور زمین ایک طرف لٹکتی نظر آئے گی۔
ناسا کے آفیسر ہاورڈ ہو نے بتایا کہ لاکھوں تختیوں سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ عملہ محفوظ واپس آسکے۔
