یوٹیوب نے شارٹس ویڈیوز کی سفارش کے نظام میں یکم اکتوبر سے تبدیلی کردی ہے جس کے تحت اصل اور منفرد مواد تیار کرنے والے تخلیق کاروں کو زیادہ نمایاں کیا جائے گا جب کہ دوسرے افراد کی ویڈیوز دوبارہ شائع کرنے والے ذرائع کی رسائی محدود کی جائے گی۔
یوٹیوب کے مطابق نئی تبدیلی کا مقصد ایسے ذرائع کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو دوسرے تخلیق کاروں کی ویڈیوز معمولی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ شائع کرکے ویوز حاصل کرتے ہیں۔
یوٹیوب سے وابستہ تخلیق کاروں کے رابطہ کار رینے رچی نے اس تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ شارٹس ویڈیوز کی سفارش کے نظام میں اصل مواد کو مزید ترجیح دی جائے گی اور دوسرے تخلیق کاروں کی دوبارہ شائع کی گئی ویڈیوز کی رسائی کم کی جائے گی۔
نئے نظام کے تحت صرف ویڈیو پر معمولی تبصرہ، معمولی فنی تبدیلی یا پہلے سے تیار نمونے کے مطابق بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنا اصل مواد تصور نہیں ہوگا۔
تخلیق کاروں کو ویڈیو میں بامعنی تبصرہ، تجزیہ یا کہانی کے ذریعے ایسا اضافی مواد شامل کرنا ہوگا جو اصل ویڈیو سے آگے کی قدر فراہم کرے۔
یوٹیوب کے مطابق ایسے ذرائع جو بنیادی طور پر دوسروں کی ویڈیوز دوبارہ شائع کرتے ہیں، انہیں دوہرا نقصان ہوسکتا ہے۔ پہلے ہی ایسے مواد پر ان ذرائع کی آمدنی حاصل کرنے کی اہلیت متاثر ہوسکتی ہے جب کہ نئی تبدیلی کے بعد مختصر ویڈیوز میں ان کی رسائی بھی کم ہوسکتی ہے۔
یوٹیوب نے کہا ہے کہ جو تخلیق کار اصل مواد کی جانب منتقل ہوں گے، ان کی ویڈیوز کی رسائی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاہم اس عمل کے لیے کوئی مخصوص مدت یا اپیل کا طریقہ کار نہیں بتایا گیا۔
دوسروں کی ویڈیوز اپنے ناظرین تک پہنچانے کے خواہش مند افراد کے لیے یوٹیوب نے اشاعتوں کے حصے کے ذریعے اصل ویڈیو براہ راست شیئر کرنے کی تجویز دی ہے جس سے اصل تخلیق کار کو ویوز اور کریڈٹ بھی ملتا ہے۔
یہ تبدیلی پاکستان کے ان تخلیق کاروں کے لیے بھی اہم ہوسکتی ہے جو زیادہ تر دوسروں کی ویڈیوز، مجموعہ شدہ مواد یا معمولی تبصرے کے ساتھ ردعمل پر مبنی ویڈیوز تیار کرتے ہیں۔
اس تبدیلی کے بعد اردو، پنجابی اور انگریزی میں منفرد مواد تیار کرنے والے تخلیق کاروں کے لیے اپنی اصل ویڈیوز کو زیادہ نمایاں کرنے کا موقع پیدا ہوگا جب کہ صرف دوسروں کا مواد دوبارہ شائع کرنے والے ذرائع کی رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔
