یورپ میں فضائی سفر کے دوران خوف و ہراس پھیل گیا، برطانیہ سے روانہ ہونے والی پروازوں سمیت تین مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد پولینڈ اور اسپین کے ہوائی اڈوں پر ہنگامی حفاظتی اقدامات شروع کردیے گئے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے وارسا جانے والی پرواز کو ممکنہ بم کی اطلاع پر اچانک پولینڈ کے موڈلن ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔ طیارے میں 181 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے، جس کے بعد ماہرین نے جہاز کی تلاشی اور حفاظتی جانچ شروع کردی۔
دوسری جانب کوپن ہیگن سے وارسا کے چوپن ایئرپورٹ آنے والی پرواز کو بھی بم کی دھمکی موصول ہوئی، تاہم طیارے نے معمول کے مطابق لینڈنگ کی اور حکام نے حفاظتی اقدامات شروع کردیے۔
ادھر برطانیہ کے شہر مانچسٹر سے اسپین کے شہر مرسیا جانے والی ریان ایئر کی پرواز کو بھی دھمکی کے باعث ہنگامی طور پر مرسیا ایئرپورٹ پر اتارنا پڑا۔ طیارے میں عملے سمیت 121 افراد سوار تھے۔ اسپین میں حکام نے طیارے کی تلاشی کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول نافذ کردیا جبکہ فائر بریگیڈ کو بھی ہنگامی طور پر طلب کرلیا گیا۔
پولینڈ کے موڈلن ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق بوئنگ 737 میکس طیارہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر ایک منٹ پر اترا، جس کے بعد مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ بعد ازاں متعلقہ اداروں نے طیارے کی تلاشی شروع کردی۔ وارسا کے چوپن ایئرپورٹ پر ایک رن وے بھی عارضی طور پر بند کیا گیا، تاہم فضائی آپریشن زیادہ متاثر نہیں ہوا۔
یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب ایک روز قبل لندن کے لوٹن ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی وز ایئر کی پرواز کو بھی بم کی دھمکی کے بعد ہنگامی طور پر ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں اتارا گیا تھا، جہاں ہنگری کے لڑاکا طیارے نے اسے فضائی نگرانی میں لیا تھا۔ بعد ازاں طیارے کی تلاشی کے دوران کوئی مشکوک چیز نہیں ملی تھی۔
مسلسل دوسرے روز یورپی پروازوں کو ملنے والی بم دھمکیوں نے فضائی سیکیورٹی پر نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں، تاہم اب تک ان واقعات میں کسی طیارے سے دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
