امریکا نے عراق سے ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد پر قائم بیشتر گزرگاہیں بند کرنے کا مطالبہ کردیا، صرف دو سرحدی راستے کھلے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن نے بغداد سے ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد پر دو گزرگاہوں کے سوا تمام راستے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عراق کی سرحدی گزرگاہ الشیب 21 اکتوبر 2026 کو عراقی حکومت کے حکم پر بند کردی گئی تھی، جس کے بعد صوبہ میسان میں احتجاج جاری ہے۔
فواد حسین کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر فوجی تصادم کے خدشات پیدا کررہی ہے، جس سے علاقائی امن اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
عراقی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات معطل ہونے کے باعث عراق کو تقریباً 60 ارب ڈالر کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
ان کے بیان سے ایران کے خلاف امریکی دباؤ، خطے میں بڑھتی کشیدگی اور سرحدی تجارت پر پڑنے والے اثرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔



















