اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مہنگی ڈیسک کی قیمت ادائیگی کا عمل فوری طور پر روکا جائے۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے سندھ کے سرکاری اسکولوں کی مہنگی ڈیسک کے معاملے پر چیف سیکرٹری، سیکرٹری تعلیم اور خزانہ کو خط لکھا ہے۔
حلیم عادل شیخ نے خط میں لکھا ہے کہ مہنگی ڈیسک کی قیمت ادائیگی کا عمل فوری طور پر روکا جائے، حقائق اور الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائے۔ مہنگی ڈیسک خریدنے اور رولز کی خلاف ورزی کرنے سے قومی خزانے کو 3 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ 320 گنا زیادہ قیمتوں پر سرکاری اسکول کی ڈیسک کا ٹرینڈ کیا گیا، 2019 اور 2020 سمیت رواں سال کو ملا کر تین بار ٹینڈر کا عمل کیا گیا، 5 ہزار 700 روپے سے لیکر 6 ہزار 860 روپے بمعہ ٹیکس اسکولوں کی ڈیسک کے لیے بولی لگانے والے کنٹریکٹر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
حلیم عادل شیخ نے خط میں مزید لکھا کہ مالی سال 2020 اور 2021 میں 23 ہزار سے 29 ہزار روپے تک کی ایک ڈیسک فراہم کرنے کے لیے کنٹریکٹ دیا گیا۔ 29 ہزار روپے تک کی ڈیسک مہیا کرنے کے لیے 4 کنٹریکٹ دیئے گئے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ بطور اپوزیشن لیڈر یہ میرا آئنی حق ہے کہ کرپشن کرنے والوں کی نشاندہی کروں۔















