Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کانگو میں ایبولا وائرس بے قابو، 6 ہزار سے زائد کیسز، تقریباً 3 ہزار اموات

وبا بنڈی بگيو وائرس کے باعث پھیلی ہے اور ملک کے 6 صوبوں کے 60 ہیلتھ زونز تک پہنچ چکی ہے

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا سنگین صورت اختیار کرگئی، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ تقریباً 3 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

وزارت صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق وسط مئی میں وبا پھوٹنے کے بعد اب تک ایبولا کے 6 ہزار 41 کیسز سامنے آچکے ہیں، جن میں 2 ہزار 911 اموات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کم از کم ایک ہزار 366 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ 619 افراد تاحال قرنطینہ یا اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق موجودہ وبا متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے کانگو میں ریکارڈ کی جانے والی دوسری بڑی ایبولا وبا بن چکی ہے۔

حکام کے مطابق وبا بنڈی بگيو وائرس کے باعث پھیلی ہے اور ملک کے 6 صوبوں کے 60 ہیلتھ زونز تک پہنچ چکی ہے جن میں ہاؤٹ یولے، ایتوری، شمالی کیوو، جنوبی کیوو، باس یولے اور ٹشوپو شامل ہیں۔

وزارت صحت نے بتایا کہ وائرس کی فعال منتقلی والے علاقوں میں انسدادِ وبا کی سرگرمیاں تیز کردی گئی ہیں، جبکہ ایتوری صوبے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے کیونکہ یہاں کیسز اور متاثرہ ہیلتھ زونز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران کیسز میں اضافے اور وبا کے جغرافیائی پھیلاؤ نے اس کے حجم میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

حکومت نے طبی عملے اور وبا کے خلاف فرنٹ لائن پر کام کرنے والے افراد کے لیے ویکسینیشن مہم بھی شروع کردی ہے۔ دوسری جانب کولیشن فار ایپی ڈیمک پریپیئرڈنس انوویشنز (CEPI) نے گزشتہ ہفتے افریقی بایوفارماسیوٹیکل کمپنی منافرما گروپ کے ساتھ 16.5 ملین ڈالر کی شراکت داری کا اعلان کیا، جس کا مقصد بنڈی بگيو وائرس کے خلاف ویکسین امیدوار کی تیاری ہے۔