وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے 16.3 بلین ڈالر درکار ہیں۔
وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے جنیوا میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ڈونرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا، سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، لائیو اسٹاک، انفرا اسٹرکچر کو بہت نقصان پہنچا، ہم نے موجودہ وسائل میں کافی حد تک متاثرین کی مدد کی۔
سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے مزید امداد درکار ہے
وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب نے معیشت کو بری طرح متاثرکیا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے 16.3بلین ڈالر درکار ہیں، متاثرین کی بحالی کیلئے مزید امداد درکار ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کرنے والے ممالک کے شکر گزار ہیں، آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک کوششیں جاری رہیں گی۔
احسن اقبال کا عالمی ڈونرز کانفرنس سے خطاب
دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی جنیوا میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ڈونرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی تباہی سے انسانی المیہ نے جنم لیا، سیلاب نے پاکستانی معیشیت کی کوویڈ کے بعد کی بحالی روک دیا۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ اب ہمیں ناصرف تباہ شدہ انفرا اسٹچربنانا ہے بلکہ موجودہ انفرا اسٹچرکو بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانا ہے۔
وزیر خارجہ کا عالمی ڈونرز کانفرنس سے خطاب
اس سے قبل وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی جنیوا میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ڈونرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں ہر 7 میں سے ایک شخص سیلاب سے متاثر ہوا، سیلاب کے 5ماہ بعد بھی کئی علاقے زیر آب ہیں۔
سیلاب سے تباہ کاری کا حجم بہت بڑا ہے
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سیلاب سے تباہ کاری کا حجم بہت بڑا ہے، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کا کام جاری ہے، متاثرین کی بحالی کا آدھا کام پاکستان اپنے وسائل سے کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا موسم سرما کے دوران سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام جاری
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ جنیوا کانفرنس عالمی برادری سے طویل المدتی شراکت داری ہے، پاکستان نے آئندہ قدرتی آفات سے بچنے کیلئے فریم ورک بنایا ہے، ورلڈ بینک، اے ڈی بی، یورپی یونین کے سامنے جامع لائحہ عمل پیش کرینگے۔

















