امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی وجہ سے ملک سیاسی اور اخلاقی طور پر ڈیفالٹ ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی ضلع ایبٹ آباد کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ورکرز کنونشن سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو ایک جدید اسلامی ملک بنانا چاہتے ہیں، ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جس میں اللہ کہ بندگی آسان ہو، ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں ماؤں اور بہنوں کو تحفظ ملے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں تعلم کے راستے آسان ہوں اور جہاں ایک نہیں ہزاروں ڈاکٹر عبدالقدیر ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا جدید اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس کی معیشت دوسروں کے قرضوں کی منتظر نہ ہو۔
سراج الحق نے کہا کہ بےروزگار نوجوانوں کو الاؤنس ملنا چاہیئے تاکہ وہ چور اور ڈاکو نہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ ستر سال سے اوپر مرد اور عورت کو ہم الاؤنس دینگے تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں ہم زرعی جہاد کر کے بنجر زمینوں کو زرعی بنائیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان اتنا مضبوط ہو کشمیر اور فلسطینوں کی آزادی مشکل نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں؛ آصف زرداری ذمے دار آدمی ہیں، ہمارا مینڈیٹ تسلیم کریں، سراج الحق
سراج الحق نے کہا کہ ہم ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے اثاثے ہمارے ہاتھ میں ہوں اور پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کی ضرورت نہیں ہو۔
انہوں نے کہا کہ کیا ایک مقروض قوم کے وزیراعظم کو یہ زیب دیتا ہے کہ ایک سو سولہ جدید سہولت سے بھرپور گاڑیوں کی منظوری دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر مند قوم بیس کلو آٹے لے لیے لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں جبکہ گندم کے پیدوار میں کوئی کمی تو نہیں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ جماعت اسلامی الیکشن پر کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہیں دے گی، سراج الحق
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپ لوگوں نے ماضی میں پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کو بھی ووٹ دیا لیکن ان لوگوں کے ملک کو تباہ کیا جبکہ کشمیر بھی انہوں نے تباہ کیا۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ ان موجودہ حکمرانوں کی وجہ سے ملک سیاسی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی ڈیفالٹ ہوگیا ہے۔

















