سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے نو منتخب وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکا میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات میں نیتن یاہو نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ دیگر عرب ممالک کے بعد اب ہم سعودی عرب سے بھی معاہدۂ ابراہیم کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم نیتن یاہو کے بیان پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ تعلقات معمول پر آنے اور مشرق وسطیٰ میں حقیقی استحکام صرف فلسطینیوں کو ایک آزاد ریاست دینے سے ہی آئے گا۔
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ ہم فلسطین کے دو ریاستی حل کے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں اور اس کے بغیر اسرائیل سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب امریکا کا قریبی پارٹنر ہے لیکن اس کے باوجود تاحال اسرائیل کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا ہے جب کہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ معاہدوں میں امریکا ثالث رہا ہے۔




















