قومی اسمبلی کی نشستوں سے استعفے واپس لینے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے الیکشن کمیشن کو مراسلہ ارسال کردیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے 45 ارکان قومی اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لے لیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ استعفے واپس لینے کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے آگاہ کردیا گیا ہے تاہم اسپیکر کی جانب سے مزید استعفوں کی منظوری غیر قانونی، غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے 44 اراکین قومی اسمبلی کا استعفے واپس لینے کا فیصلہ
عامر ڈوگر نے مزید کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے الیکشن کمیشن ایسے کسی بھی عمل کو روکیں۔
اس حوالے سے عامر ڈوگر نے پی ٹی آئی ایم این ایز کے ہمراہ الیکشن کمیشن کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ہماری چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے او ہم نے تمام تحفظات سے آگاہ کیا کہ کس طرح ہمارے 10 مہینے اسپیکر نے ہمارے استعفے روک کے رکھے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب مرحلہ وار ہمارے استعفے منظور کیے جارہے ہیں لیکن آج ہم نے سیاسی حکمت عملی کے تحت 45 استعفے ودڈرا کرنے کا فیصلہ کیا تو ہمارے لیے پارلیمنٹ کے دروازے بند کردیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے 45 ایم این ایز کی لسٹ الیکشن کمیشن کے سامنے رکھی ہے اور یہ درخواست ای میل بھی کیا ، واٹس ایپ بھی کیا اور الیکشن کمیشن کے پانچوں ممبران کو بھی جمع کرادی، اس کے بعد کوئی آئینی اقدام ہوتا ہے تو اسپیکر قومی اسمبلی اس کے ذمہ دار ہوں گے ۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر نے اپنے ایک پیغام میں بتایا ہے کہ اسپیکر ابھی تک تمام اسمبلی ارکان کے استعفے قبول نہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال کی پیش نظر پارٹی چیئرمین کی ہدایات کے مطابق 44 ارکان اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو ای میل کر دیا ہے، اگلا قدم اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا ہوا ہے، انھیں بھاگنے نہیں دیں گے، عامر ڈوگر

















