ایندھن کی قلت سے جنرل ایوی ایشن شعبے کے فلائٹ آپریشنز معطل ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے بانی عمران اسلم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے جنرل ایوی ایشن کو مشکلات کا سامنا ہے، ایندھن کی قلت سے فلائنگ اسکولز کے فضائی آپریشن رک چکے ہیں، ایندھن کی قلت سے ایدھی ایئر ایمبولینس طیارے کی فلائنگ متاثر ہے۔
ایندھن کی قلت سے ایئر ایمبولنس سروس بھی معطل
ان کا کہنا تھا کہ مشکلات کے باعثِ میڈیکل ایمرجنسی کے فلائٹ آپریشن پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، تین ماہ سے اسٹیٹ بینک کی طرف سے ایل سیز نہ کھلنے سے درآمدہ ایندھن پورٹ پر پھنسا ہوا ہے، درآمدہ فیول کیلئے 23 ہزار ڈالر مالیت کی ایل سیز بھی نہیں کھولی جا رہی، ایندھن نہ ہونے کے باعث میڈیکل ایمرجنسی کیلئے ایئر ایمبولنس سروس بھی معطل ہو گئی ہے۔
عمران اسلم خان نے کہا کہ جنرل ایوی ایشن کو ایندھن قلت دور کرنے کے لیے حکومت ایل سیز کھولنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو ہدایت دے تاکہ فلائنگ شروع کی جائے، پورٹ پر پھنسے درآمد ایندھن پر ڈیمریجز لگ رہے ہیں، کیا یہ جرمانے حکومت بھرے گی؟ بزنس کے لئے سازگار ماحول نہ ہونے کے باعث ایوایشن کمپنیوں نے کاروبار بند کرکے اپنے جہاز بیرن ملک ایکسپورٹ کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف جنوری کے ُمہینے میں جنرل ایوی ایشن کے 3 جہاز پاکستان سے بیرون ملک بھیج دیے گئے، ایوی ایشن کی کاروباری سرگرمیوں میں کمی سے نہ صرف ایوی ایشن کمپنیوں بلکہ حکومت پاکستان کو بھی بھاری نقصان ہو رہا ہے، حکومت نے اقدامات نہ اٹھائے تو ہم کاروبار بند کر دیں گے۔

















