چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ 1996 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے کی ایک وجہ فون ریکارڈنگ تھی۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، قانون کے مطابق کسی کی آڈیو ریکارڈ نہیں کی جاسکتی، آڈیو ریکارڈنگ صرف عدالتی احکامات پر ہی کی جاسکتی ہے۔
عمران خان اور یاسمین راشد کا مبینہ آڈیو لیکس کے حوالے سے قوم سے اہم خطاب۔آڈیو لیک کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ فئیر ٹرائل ایکٹ کیا ہے؟
چیئر مین پی ٹی آئی نے بڑی سازش سے پردہ ہٹا دیا۔ #ImranKhan #BOLNews @PTIofficial@ImranKhanPTI@Dr_YasminRashid pic.twitter.com/sEPmGWGDvQ— BOL Network (@BOLNETWORK) February 19, 2023
انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے فون ٹیپ کر کے ریلیز کیے جاتے ہیں اور پھر بلیک میل کرنے کے لیے یہ آڈیوز استعمال کی جاتی ہیں۔
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ یاسمین راشد کی سابق سی سی پی او کی آڈیو ریکارڈنگ کے بعد ریلیز کی گئی، بتایا جائے آڈیو ریلیز کرنے کی وجہ کیا ہے؟
عمران خان کا کہنا تھا کہ 1996 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے کی ایک وجہ فون ریکارڈنگ تھی، بطور وزیراعظم میری پرنسپل سیکریٹری کے ساتھ بات چیت لیک کی گئی۔
چیئرمین تحریک انصاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ نگران حکومت نیوٹرل نہیں ہے، جے آئی ٹی نے عدالت میں بتایا ہے حملے میں3شوٹرز ملوث تھے۔
عمران خان نے کہا کہ 4ماہ قبل آڈیو ٹیپ پرسپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی، سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ آڈیو ٹیپ پر دائر پٹیشن کو سنا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاستدانوں اور شہریوں کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں جبکہ آڈیو ٹیپ پر ملک میں قانون موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بلیک میل کرناہو تو آڈیو لیک کردی جاتی ہے جبکہ فون ٹیپ کرنا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیخلاف ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے عدلیہ سے آڈیو لیکس کے معاملے کو نوٹس لینےکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو ٹیپ کے معاملے پر عدالت کو کارروائی کرنی چاہیے۔
یاسمین راشد کا آڈیو لیک کے خلاف کل عدالت جانے کا اعلان
سابق وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے آڈیو لیک کے خلاف کل عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرے بنیادی حقوق پر حملہ ہوا اس لیے عدالت جارہی ہوں۔
آڈیو لیکس کے معاملے پر یاسمین راشد کا عدالت جانے کا اعلان
بول نیوز سے براہ راست: https://t.co/RwI2lQU2Xj#BOLNews #ImranKhan @PTIofficial @ImranKhanPTI pic.twitter.com/Qx6eI4fR2M— BOL Network (@BOLNETWORK) February 19, 2023
ڈاکٹر یاسمین راشد نے مزید کہا کہ عمران خان پر حملے کی تحقیقات کیلئے بننے والی جے آئی ٹی کو میں فالو کر رہی تھی، سابق سی سی پی او عمران خان پر حملے کی جے آئی ٹی کے کنوینر تھے، ڈوگر صاحب! نے یہ انکشاف کیا تھا کہ عمران خان پر حملے میں 3 لوگ ملوث ہیں۔

















