صحت کا دارومدار نظام انہضام پر ہے ہاضمہ جتنا بہترہوگا غذا اتنی ہی بہتر انداز میں ہضم ہوکر جسم کا حصہ بنے گی۔ غذا کے ہضم ہونے کا یہ سارا معاملہ ایک خاص عمل کے تحت انجام پاتا ہے جسے میٹابولزم کہاجاتا ہے۔
میٹابولزم ایک کیمیائی عمل ہے جس میں خلیات کھانے کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں یعنی یوں کہہ لیں کہ کھانے کوتیزی سے ہضم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے میں میٹابولزم اہم کرداراداکرتاہے، اسی لیے اگر کسی انسان کامیٹابولزم سست ہوتو وہ ڈائٹ کے باوجود وزن کم نہیں کرپاتا۔
تاہم میٹابولزم اور وزن کم کرنے کے حوالے سے بہت سے غلط مفرضات پائے جاتے ہیں جنہیں لوگوں کی بڑی تعداد سچ سمجھتی ہے۔ یہاں پر انہی مفروضات کا ذکر کیا جارہا ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
میٹابولزم تبدیل نہیں ہوسکتا
میٹابولزم کو ورزش اور ٹریننگ کے ذریعے بڑھایا جاسکتاہے، درست غذا کا انتخاب، پانی کی مناسب مقدار اور ورزش میٹابولزم پر حیرت انگیز اثرات مرتب کرتی ہے۔
دیر سے کھانا میٹابولزم کو سست کرتا ہے
اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ آپ کا جسم رات میں بھی اسی طرح کام کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوچکی ہے میٹابولزم کی رفتار دوران نیند بڑھ جاتی ہے۔
کمزور افراد کا میٹابولزم تیز کام کرتا ہے
حقائق کے مطابق کمزور افراد کا میٹابولزم موٹے افراد کی نسبت سست کام کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنے زیادہ مسلز ہوں گے یہ عمل اتنی ہی تیزی کام کرے گا اور موٹے افراد میں مسلز زیادہ ہوتے ہیں۔
ورزش غذا سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے
کوئی بھی ورزش وزن کم کرنے میں صحت سے بھرپورغذا کے بغیر مفید ثابت نہیں ہوسکتی، متوازن غذا کے ساتھ ورزش آپ کے میٹابولزم کو بڑھا سکتی ہے۔
غذا کی تھوڑی مقدار کھانا
چھوٹے کھانے جنہیں بار بار کھایا جائے بڑے کھانے سے بہتر کام کرتے ہیں تاہم ان سے میٹابولزم پر بہت ہی معمولی سا فرق پڑتا ہے اس لیے اس کے بارے ایک بار پھر سوچیں۔




















