لاہور ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے 5 مقدمات میں 24 مارچ اور لاہور کے 4 مقدمات میں 27 مارچ تک حفاظتی ضمانتیں منظور کرلیں۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ کے صدر نے کہا کہ عدالت نے مزید مقدمات کی تفصیلات طلب کررکھی ہیں تاہم ابھی تک ان مقدمات کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔
اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت کوئی انتخابی مہم نہیں چل رہی، جو کچھ ہمارے گھر پر حملہ ہوا اس انتشار کو بچانے پر عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو کچھ کیا گیا آج تک کسی سیاسی رہنماء کےساتھ ان کےگھر پر نہیں کیا گیا ۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ ماہ سے کہہ رہاتھا کہ میری زندگی کو خطرہ یے، کئی بار کہہ چکاکہ ایف ایٹ والی عدالتوں کو منتقل کیاجائے، زندگی میں کبھی قانون نہیں توڑا قانون کی حکمرانی پر مکمل یقین ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر آپ نظام کا حصہ نہیں بنیں گے تو مشکلات آئیں گی، یہ بڑا سادہ کیس تھا اس میں کوئی مشکل نہیں تھی، سارے مسائل کا حل قانون میں ہی موجود تھا، اس معاملے کو غلط طریقے سے ہیبڈل کیاگیا، جب عدالت نے قانون پڑھایا تو چیزیں درست سمت آگئیں۔
بعد ازاں عدالت نے اسلام آباد کے درج مقدمات میں عمران خان کی حفاظتی ضمانتیں 24 مارچ تک منظور کرلیں اور عدالت نے لاہور کے درج مقدمات میں بھی حفاظتی ضمانتیں بھی 24 مارچ تک منظور کیں۔
جس پر پی ٹی آئی کے وکلاء نے 15 روز تک حفاظتی ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے لاہور کے مقدمات میں 27 مارچ تک حفاظتی ضمامتیں منظور کرلیں۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان بے لاہور اور اسلام آباد میں درج 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر کررکھی ہیں، عمران خان نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواستیں دائر کیں۔
درخواست میں سابق وزیراعظم نے موقف اختیار کیا کہ عدالتوں میں پیش ہوکراپنے خلاف الزامات کا سامنا کرنا چاہتا ہوں، پولیس کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے، عدالت ساتوں مقدمات میں حفاظتی ضمانتیں منظور کرے۔
یہ بھی پڑھیں؛ عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل
چیئرمین پی ٹی آئی نے ظل شاہ قتل کے لاہور میں درج دومقدمات، زمان پارک کے دومقدمات میں حفاظتی ضمانت کی رخواستیں دائر کیں جب کہ عمران خان نے تھانہ رمنا اسلام آباد سمیت پانچ مقدمات میں بھی حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائرکیں۔
عمران خان نے زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ تک جانے کے لیے سیکیورٹی کی بھی درخواست دائر کی جس پر عمل درآمد ہورہا ہے۔
سابق وزیراعظم کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں سمیت کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اس سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان کی گاڑی عدالت کے احاطے میں لانے کی اجازت طلب کی تھی جس کی اجازت مل گئی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کل تک کے لیے معطل کردیے ہیں۔

















