Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

برطانوی جریدے برٹش ہیرالڈ نے نام نہاد بھارتی جمہوریت کا بھانڈا پھوڑ دیا

نامور برطانوی جریدے برٹش ہیرالڈ نے نام نہاد بھارتی جمہوریت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

جریدے نے جولائی کے شمارے میں مودی سرکار  کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، مذہبی تقیسم، نسل پرستی اور گرتے صحافتی معیار پر تشویش ناک سوالات اٹھا دیئے۔

  برٹش ہیرالڈ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ  اقلیتوں کے خلاف تشدد پر بڑھتے واقعات پر مودی کی مجرمانہ خاموشی کی بنیادی وجہ انتہا پسند اکثریت کی خوشنودی ہے۔

جنوری 2023 میں بھارتی ریسلنگ کے صدربرج بھوشن شرن سنگھ پرخواتین ریسلر کی طرف سے جنسی استحصال کے الزامات کے باوجود مودی نے کسی بھی قسم کا ایکشن لینے سے گریز کیا۔

ٹوئیٹر کے سابقہ سی ای او  جیک ڈورسی کے مودی سرکار پر ٹوئیٹر کی معطلی، دفاتر پر انکم ٹیکس حکام کے چھاپے اور ملازمین کے گھروں پر سرچ آپریشن کی دھمکی کا بھی حوالہ دیا گیا۔

مودی سرکارنے پستی کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے مودی مخالف ڈاکومنٹری نشر کرنے پر برطانوی نشریاتی ادارے کے دفاتر اور ملازمین کے گھروں پر چھاپے مار کر ہراساں کیا۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کی مودی سرکار کی اقلیتوں کی حالتِ زار پر بیان بھارت میں گرتی جمہوری اقتدار کی عکاسی کرتا ہے۔

منی پور میں گزشتہ 2ماہ سے جاری خانہ جنگی کے باعث 250سے زائد چرچ نذرآتش، 115افراد ہلاک جبکہ 4000سے زائد مقامی افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

منی پور میں جاری نسلی فسادات پر مودی سرکار کی خاموشی اور بی جے پی کی پذیرائی ریاست میں اکثریتی خوشنودی حاصل کرنے کے سیاسی مقاصد میں سے ہے۔

مودی سرکار سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر ’ڈیوائیڈ اینڈ رول‘   کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے منی پور اور پورے ہندوستان میں مذہبی تقسیم کو کشیدہ کر چکی ہے۔

بھارت دنیا بھر میں انٹرنیٹ بندش کے لحاظ سے گزشتہ 4سالوں سے سر فہرست رہا۔ ذرائع ابلاغ کی بندش میں بھارت یوکرین پر بھی سبقت لے گیا۔

مودی کی سرپرستی میں 2002کے گجرات فسادات اور 2023کے منی پور فسادات میں گہری مماثلت ہے۔2004 میں گجرات فسادات میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں مودی کو رومن شہنشاہ نیرو سے تشبیہ دی گئی تھی۔

گجرات فسادات اور منی پور پر مودی  کی دانستہ مجرمانہ خاموشی سیاسی حر کات اور پرانہ طریقہ  واردات ہے۔

منی پور میں مودی سرکار کا مقصد جاری خانہ جنگی کو سنگین نہج پر پہنچا کر بھارتی فوج کی ریاست میں مستقل تعیناتی ہے۔ بھارتی فوج مودی سرکار کا سیاسی ہتھیار، مستقل تعیناتی، مخالف سیاسی اور صحافتی قوتوں کو دبانے کے  لیے استعمال ہو رہی ہے۔

مودی سرکار منی پور میں پولیس کو صرف کوکی قبیلے کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔  بی جے پی منی پور میں متھائی قبائل کی شکایت اور مسائل کو سیاسی مقاصد کے  لیے استعمال کر رہی ہے۔

مسلمانوں کے خلاف بلڈٖوزر پالیسی، کئی ریاستوں میں حجاب پر پابندی، 2019کے شہریت کے نئے قوانین اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ناجائز تنسیخ مودی کی انتخابی فوائد کے  لیے ہندو پالیسی کا ثبوت ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز  کے مطابق مودی سرکار نے صحافتی آزادی کا میڈیا پر بڑھتے کنٹرول، تنقیدی آوازوں کی بندش اور پیشہ ور صحافیوں کی حراسگی کے باعث بھارتی میڈیا شدید بحران کا شکار ہیں۔

مودی امریکی دورے پر انسانی حقوق کے متعلق’ وال اسٹریٹ جرنل‘ کی سبرینہ صدیقی کو مودی کے پیروکاروں کی طرف سے سوشل میڈیا پر شدید حراسگی کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں