مودی سرکار کی کھوکھلی ترقی کے ڈھکوسلے بھارتی ریلوے کی کارکردگی نے بے نقاب کر دیے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رواں سال بھارتی ریلوے میں حادثات کی تعداد 10 سے تجاوز کر گئی۔2023 میں مختلف ریلوے حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی۔
حادثات کی بنیادی وجوہات غیر معیاری ٹیکنالوجی، پٹڑیوں کی قدیم ساخت اور حد سے زیادہ مسافروں کا سوار ہونا قرار دی گئی۔
مودی کی فخریہ پیشکش وندے بھارت ایکسپریس افتتاح کے پہلے مہینے ہی 4 حادثات کا شکار ہوئی۔
ریلوے حادثات کی عالمی تاریخ میں بھی بھارت پیش پیش رہاہے۔
انسانی غلطی سے ہونے والا سب سے بڑا ریلوے حادثہ بھارتی ریاست بہار میں 1981 میں پیش آیا تھا جس میں 800 سے زائد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
مئی 2010 میں کولکتہ حادثے میں 200 مسافر ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے جبکہ نومبر 2016 میں اندور پٹنہ ایکسپریس حادثے میں 150 سے زائد مسافر ہلاک ہوئے تھے ۔
رواں سال جون میں اڑیسہ میں تین ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں 300 کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے ۔
حادثات کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے بھارتی ریلوے ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی روادار رہی۔
2010 کولکتہ حادثہ ماؤ باغیوں،2002 راجدھانی ایکسپریس حادثہ غیر ملکی جاسوسوں، 2006 ممبئی حادثہ اور سمجھوتہ ایکسپریس حادثہ پاکستان پر اور گزشتہ اڑیسہ سانحہ مسلمانوں پر ڈال دیا گیا۔




















