Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک، دودھ پلانے والی مائیں کون سی غذائیں کھائیں جو بچے کی صحت بڑھائے

دنیا بھر میں ہر سال یکم اگست سے 7 اگست تک ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک منایا جاتا ہے۔ اس سالانہ تقریب کا مقصد دودھ پلانے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا، دودھ پلانے والی ماؤں کو بااختیار بنانا اور ان کی مدد کرنا ہے۔

ساتھ ہی یہ دن  بچوں اور ماؤں دونوں کے لیے دودھ پلانے کے بہت سے صحت کے فوائد پر روشنی ڈالتا ہے۔

ماں کا دودھ بچے کی پہلی صحت بخش غذا ہے ماں کے دودھ میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو اسے بچپن سے بڑھاپے تک نہ صرف صحت مند رکھتے ہیں بلکہ کئی بیماریوں سے تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔

ماں بننا ایک تکلیف دہ اور پیچیدہ عمل ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلانے کا عمل ماں اور بچے دونوں کی صحت کا ضامن ہے۔ اس مدت کے دوران غذائیت ایک اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ بچہ اور دودھ پلانے والی ماں دونوں کو کافی مقدار میں غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔

دودھ پلانے والی ماؤں کو اپنی اوربچے کی بہتر صحت کے لیے متوازن غذا کو خوراک میں شامل رکھنا بے حد ضروری ہے، تاکہ انہیں ضروری وٹامنز، معدنیات اور اینٹی باڈیزملتی رہیں۔

ماں جو بھی غذا اپنی خوراک میں لیتی ہے اس کے غذائی اجزاء ماں کے دودھ کے ذریعے بچے تک پہنچتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے صحت مند اور متوازن غذا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر بچے پر پڑتا ہے۔

دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے خاص طور پر اہم غذائی اجزاء میں پروٹین، آئرن، کیلشیم، اومیگا 3 فیٹی ایسڈ، اور وٹامن اے، سی اور ڈی شامل ہیں۔

یہ غذائی اجزاء دودھ کی پیداواربڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، ماں کے مدافعتی نظام کے ساتھ بچے کی نشوونما کو فروغ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اومیگا 3 فیٹی ایسڈ سے بھرپور خوراک بچے کی علمی نشوونما کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔

دودھ پلانے کے دوران کیا کھائیں؟

دودھ پلانے والی ماؤں کی خوراک میں تمام صحت بخش غذائیں جیسے سبزیاں، خاص کر پتوں والی سبزیاں، پھل، مکمل اناج اور بہت کچھ شامل ہونا چاہیے۔

دودھ پلانے والی ماؤں کو پانی کی کمی کو روکنے اور دودھ کی پیداوارکو مستقل بڑھانے کے لیے پانی، دودھ اور بغیر میٹھے مشروبات سمیت ہر روز 8-12 گلاس لکویڈ پینا ضروری ہے

دودھ پلانے کے دوران کن چیزوں سے بچنا چاہئے؟

چونکہ دودھ پلانے والی ماؤں کی طرف سے کھائی جانے والی کوئی بھی غذا دودھ کے ذریعے بچے تک پہنچتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسی کھانوں سے پرہیز کیا جائے جو بچے کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

کیفین کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہئے، کیونکہ زیادہ کیفین بچے میں چڑچڑاپن اور نیند میں خلل کا سبب سکتی ہے۔

دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مخصوص مچھلیوں، جیسے ٹونا اور کنگ میکریل سے پرہیز کریں، کیونکہ مرکری کی اونچی سطح بچے کے دماغ اور اعصابی نظام کی نشوونما پر نقصان دہ اثر ڈال سکتی ہے۔

دودھ پلانے والی ماؤں کو ایسی غذاؤں سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے جس سے الرجی کا خطرہ ہو جیسے کہ مونگ پھلی، گری دار میوے، دودھ اور سویا۔

دودھ پلانے کے حوالے سے بہت غلط تصورات پائے جاتے ہیں جو بہت عام ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسے مسالہ دار غذائیں کھانے سے بچہ کو گیس ہوجاتی ہے۔ ماں کے دودھ کا ذائقہ تبدیل ہوتا رہتا جو وہ کھاتی ہیں یہ بات درست نہیں ہے۔

دودھ پلانے کے بارے میں ایک اور عام غلط تصور یہ بھی ہے کہ اس سے بریسٹ کا شیپ تبدیل ہونے لگتا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں۔

دودھ پلانے والے ماؤں کے لیے ضرروی ہے کہ وہ اس حوالے سے جتنے بھی سوالات ذہن میں رکھتی ہیں وہ صرف مستند اور پیشہ ور افراد سے پوچھیں، جیسے کہ ماہر اطفال یا دودھ پلانے کے ماہر۔

بچے کی صحت کے بارے میں کسی بھی قسم کی پریشانی کو دور کرنے کے لیے، دودھ پلانے والی ماؤں کو اپنے جسم میں مختلف غذائی اجزاء کی سطح کی نگرانی کرنی چاہیے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان میں سے کافی مقدار میں ماں کے ساتھ ساتھ بچے کی ضروریات کو پورا کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، ماں کے خون کی جانچ کرنے سے آئرن، کیلشیم اور بہت سے وٹامنز اور معدنیات کی سطح کا تعین کیا جا سکتا ہے، جبکہ ماں کے دودھ کی جانچ سے بچے کو اومیگا 3 کی سطح کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

دودھ پلانے کے دوران خود کی دیکھ بھال اور ذہنی تندرستی برقرار رکھنا ماں اور بچے دونوں کی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہے۔ تناؤ سے بچنا اور مناسب آرام کرنا ضروری ہے کیونکہ کورٹیسول جیسے ہارمونز میں اضافہ دودھ کی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں