Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغان سفیر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات؛ سانحہ باجوڑ پر اظہارافسوس

اسلام آباد: افغانستان کے سفیر سردار احمد خان شکیب کی جے یو آئی (ف) سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغان سفیر سردار شکیب احمد کی وفد کے ہمراہ جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس دوران سانحہ باجوڑ پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

ملاقات کے دوران افغان سفیر اور مولانا فضل الرحمان نے شہداء کے لئے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔

اس موقع پر مولانا صلاح الدین ایوبی، علامہ راشد سومرو اور انجنیئر ضیاء الرحمان موجود تھے۔

اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے پارٹی کی جانب سے باجوڑ شہداء کے لواحقین کیلئے پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کیلئے تین تین لاکھ روپے کا اعلان کیا تھا جبکہ گورنر خیبرپختونخوا نے بھی شہداء کیلئے بیس بیس لاکھ اور زخمیوں کیلئے سات سات لاکھ روپے کا اعلان کیا جس کے چیکس اور نقد رقم ڈپٹی کمشنر اور سابق سینیٹر مولانا عبد الرشید کے حوالے کردیے۔

مولانا فضل الرحمان نے سانحہ باجوڑ میں شہید اور زخمی ہونے والے کارکنوں اور رہنماؤں کے ورثاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ واقعے نے ہماری مسکراہٹوں کو چھین لیا، ہمارے دل کی خوشیوں کو غموں میں ڈبو دیا ہے، انسانی خون کا کوئی بدل نہیں اگر دس ارب بھی دے دیں تو ایک انسان کا بدل نہیں ہوسکتا۔

سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا قاتلوں سے کہتا ہوں کہ آپ ہمارے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کرسکے بلکہ ان کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں، جو لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ ہم جہاد کر رہے ہیں وہ غلط فہمی میں نہ رہیں یہ مفسدین ہیں، جے یو آئی روز اوّل سے بدامنی کی آگ کو بجھانے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا تھا کہ میں نے ہر جگہ پر باجوڑ کے علماء کے قتل عام پر آواز اٹھائی ہے، ایسا کوئی فورم نہیں ہوگا جہاں میں نے آواز بلند نہ کی ہو کہ باجوڑ سمیت دیگر علاقوں میں ہمارے علماء کو کیوں شہید کیا جارہا ہے؟، ہمارے کارکن کیا کسی بھی بے گناہ مسلمان کو مارنا مسلمان کی شان نہیں ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں خودکش دھماکا ہوا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمے داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی تھی اور اس حملے میں 55 افراد شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں