Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جنوبی کوریا، سمندری طوفان کے پیش نظر ہزاروں اسکاؤٹس کا انخلاء شروع

جنوبی کوریا میں ممکنہ خطرناک سمندری طوفان کے پیش نظر ہزاروں غیر ملکی اسکاؤٹس کا انخلاء شروع کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق سمندری طوفان کے باعث جنوبی کوریا میں اسکاؤٹ کیمپنگ کے لیے کیمپ سائٹ پر جمع ہونے والے ہزاروں غیر ملکی اسکاؤٹس کو نکالا جا رہا ہے۔

برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے اسکاؤٹس پہلے ہی کیمپ چھوڑ چکے ہیں اور انہوں نے کیمپ میں اعلی درجہ حرارت اور صفائی ستھرائی کے خراب حالات کی شکایات بھی کی ہیں۔

Punishing South Korean heat rains on scouts' jamboree | Shepparton News

یوکے سکاؤٹس کے چیف ایگزیکٹیو میٹ ہائیڈ نے کہا کہ وہ منتظمین کی جانب سے مایوسی محسوس کرتے ہیں اور برطانیہ کی سرگرمیاں برسوں پیچھے رہ گئی ہیں۔

چیف ایگزیکٹیو میٹ ہائیڈ  نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ سائٹ صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ اسکاؤٹ جمبوری میں 40 ہزار سے زائد نوجوان اسکاؤٹ شرکت کر رہے تھے۔

35 ڈگری سینٹی گریڈ (95 فارن ہائیٹ) گرمی میں سیکڑوں اسکاؤٹس بیمار پڑ گئے تھے اور گرمی کی تھکاوٹ سے متاثر ہونے والوں میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اسکاؤٹس بھی شامل تھے۔

Tens of thousands of young scouts to evacuate world jamboree in South Korea  as storm Khanun looms

4500 افراد پر مشتمل برطانوی گروپ، جس میں سب سے زیادہ لوگ موجود تھے، گزشتہ ہفتے بوان شہر کے قریب سیمانگیم کے کیمپ سائٹ پر پہنچے تھے لیکن ہفتے کے روز انہیں دارالحکومت سیئول کے ہوٹلوں میں منتقل کر دیا گیا۔

چیف ایگزیکٹیو میٹ ہائیڈ نے کہا کہ اس منتقلی سے یوکے اسکاؤٹ ایسوسی ایشن کو اپنے ذخائر میں سے 10 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ لاگت آئے گی۔

چیف ایگزیکٹیو میٹ ہائیڈ نے مزید کہا کہ ہم نے ان ذخائر سے وعدے کیے تھے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب ہم وہ کام نہیں کر سکتے جو ہم اگلے تین سے پانچ سالوں میں کرنا چاہتے تھے۔

S. Korea presses on with event

امریکہ اور سنگاپور نے بھی پہلے ہی کیمپ سائٹ سے اپنی ٹیموں کو واپس بلا لیا ہے۔

ورلڈ اسکاؤٹ جمبوری کے منتظمین نے پیر کے روز کہا کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ اب اس ایونٹ کا انعقاد محفوظ نہیں ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ورلڈ آرگنائزیشن فار اسکاؤٹ موومنٹس اور قومی وفود کے خدشات سنے ہیں، جو کئی دنوں سے سائٹ کو بند کرنے کی درخواست کر رہے تھے۔

جنوبی کوریا کے نائب وزیر برائے ڈیزاسٹر اینڈ سیفٹی مینجمنٹ کم سنگ ہو نے کہا ہے کہ سیمانگیم میں تقریبا 36 ہزار افراد کو بسوں کے ذریعے ان علاقوں میں لے جایا جائے گا جو طوفان کے راستے میں نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایونٹ اب بھی جاری ہے لیکن “قدرتی آفت کی وجہ سے مقام تبدیل ہو رہا ہے۔

حکام سیئول اور اس کے آس پاس متبادل مقامات اور رہائش کی تلاش کر رہے ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں