Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہوائی جنگلات کی آگ نے امریکہ کا 100 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

امریکی ریاست ہوائی کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے ملک کا سو سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست ہوائی کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 93 تک پہنچ گئی ہے جس کے بعد امریکہ میں 100 سال سے زائد عرصے میں یہ سب سے زیادہ مہلک جنگل کی آگ ہے۔

امریکی جزیرے پر لگنے والی خوفناک آگ کی وجہ سے 12 ہزار سے زائد افراد کی آبادی والا ریزورٹ قصبہ لاہینا کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا.

Death toll in Maui rises to 93 with 2,200 structures destroyed or damaged.  Follow live updates | National News | 2news.com

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ سرچ ٹیمیں موئی جزیرے پر واقع لہینہ قصبے کے کھنڈرات کی چھان بین جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق 12 ہزار سے زائد آبادی والا ریزورٹ ٹاؤن کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہے، اس علاقے کے جاندار ہوٹل اور ریستوراں راکھ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں گورنر جوش گرین نے کہا کہ موئی کے جنگلات میں لگی آگ سے مرنے والوں کی تعداد 89 تک پہنچ گئی ہے اور یہ 100 سال سے زیادہ عرصے میں امریکہ کی سب سے مہلک جنگل کی آگ ہے۔

ماؤ کاؤنٹی نے بعد میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھا کر 93 کر دی۔

Death toll in Maui rises to 93 with 2,200 structures destroyed or damaged.  Follow live updates | National | wfmz.com

گورنر جوش گرین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم مشکل حالات کے لیے لوگوں کا تیار کرنا چاہتے ہیں۔

گورنر جوش گرین نے تاریخی فرنٹ اسٹریٹ پر تباہی کا دورہ کرتے ہوئے کہا، یہ یقینی طور پر ہوائی کی بدترین قدرتی آفت ہوگی جس کا سامنا کرنا پڑا۔

تازہ ترین اعداد و شمار 2018 میں کیلیفورنیا کے شہر پیراڈائز میں لگنے والی آگ میں ہلاک ہونے والے 85 افراد سے زیادہ ہیں اور یہ 1918 کے بعد جنگل کی آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے جب مینیسوٹا اور وسکونسن میں کلوکیٹ میں آگ لگنے سے 453 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Maui fire death toll rises to 93 as officials warn scale of losses not yet  known | Beccles & Bungay Journal

موئی پولیس کے سربراہ جان پیلیٹئر نے کہا کہ ڈیزاسٹر زون کے صرف ایک حصے کی تلاشی لی گئی ہے اور صرف دو متاثرین کی شناخت کی جا سکی ہے کیونکہ وہ بری طرح جھلس گئے تھے۔

جان پیلیٹئر نے مزید کہا کہ لاشوں کا پتہ لگانے کے لئے تربیت یافتہ کتوں نے تلاش کے علاقے کے صرف 3 فیصد حصے کا احاطہ کیا تھا۔

جان پیلیٹئر کا کہنا تھا کہ ہمیں جو باقیات مل رہی ہیں وہ اس آگ کی ہیں جس سے دھات پگھل گئی تھی، ہمیں ان میں سے ہر ایک کی شناخت کرنے کے لیے تیزی سے ڈی این اے کرنا ہو گا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں