سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال 13 لاکھ سے زائد غیر ملکی شہریوں کو برطانیہ آکر آباد ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
گلاسگو سرکاری اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ نے گزشتہ سال 13 لاکھ سے زیادہ غیر ملکی شہریوں کو برطانیہ آکر آباد ہونے کی اجازت دی۔
جولائی کے دوران ورک ویزوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 63 فیصد بڑھ کر 5 لاکھ 38ہزار 883 ہوگئی جب کہ طلبہ کے ویزوں کی تعداد 34 فیصد بڑھ کر 6 لاکھ 57 ہزار 208 اور فیملی ویزوں کی تعداد دگنی ہوکر 75 ہزار 717 تک پہنچ گئی۔
ان میں زیادہ تر پاکستانیوں کی تعداد بھی ہے جو کہ ورک پرمنٹ اور اسٹڈ ی ویزہ پر برطانیہ تشریف لائے ہیں۔
علاوہ ازیں یورپی یونین سے 28 ہزار 986 خاندانوں کو مستقل طور پر کام کرنے کے پرمٹ جاری کیے گئے۔
ان میں ابھی وہ تعداد شامل نہیں جو پناہ گزینوں کی آبادکاری کی اسکیموں کے تحت یوکرین اور ہانگ کانگ وغیرہ سے آئے تھے اور نہ ہی وہ ہزاروں افراد شامل ہیں جو چھوٹی کشتیوں پر سوار ہو کر چینل عبور کرکے پہنچے تھے۔
ہزاروں افراد ایسے بھی ہیں جن کا ریکارڈ کہیں بھی مو جود نہیں، دریں اثنا ہوم آفس کے تازہ ترین اعدادوشمار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ برطانیہ میں سیاسی پناہ کے فیصلوں کے انتظار میں بیٹھے افراد کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
ایسے افراد کی درخواستوں کا فیصلہ ستمبر تک ہو جائے گا جب کہ ان کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 44 فیصد بڑھ کر 1 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔
نئے اعدادو شمار کنزرویٹو ممبران پارلیمنٹ کیلئے خطرے کی گھنٹی کا باعث بن سکتی ہیں جو چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے منشور کے مطابق امیگریشن کی تعداد میں کمی لائے گئی لیکن اس بڑھتی ہوئی تعداد سے بلا شبہ اس سے وزیراعظم رشی سوناک پر دباؤ بڑھے گا۔ دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں حکومت اس روک تھام کے لیے کس قسم کے قانون لاتی ہے۔
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















