Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نگران وزیراعظم کا بجلی چوروں کیخلاف فوری کارروائی شروع کرنے کا حکم

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی چوروں کیخلاف فوری کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے زیر صدارت بجلی کے شعبے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں نگران وزیر اعظم کو بجلی کی مجموعی پیداواری استعداد، اصل پیداوار اور مجموعی ترسیل پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں نگران وزیر اعظم کو بجلی کی پیداوار میں مختلف ذرائع کے استعمال کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ نگران وزیر اعظم کو ملک میں بجلی کی مجموعی پیداواری استعداد ، اصل پیداوار اور مختلف موسموں میں بجلی کی مجموعی ترسیل کے بارے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بجلی کی مجموعی پیداواری استعداد، سال بھر میں پیداوار و ترسیل اور اس کے لئے استعمال ہونے والے انرجی مکس کے بارے بتایا گیا۔

اجلاس کو ملک بھر میں بجلی نظام کے نقصانات اور وصول نہ ہونے والی رقم پر بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس کو ملک میں بجلی کی انرجی مارکیٹ کے قیام پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ انرجی مارکیٹ کے قیام سے بجلی کے شعبے کی استعداد و کارکردگی میں مؤثر اضافہ ہوگا جس سے 2 کروڑ 70لاکھ گھریلو صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ حکومت بجلی چوروں کے خلاف بھرپور ایکشن لے گی،بجلی کے آئندہ پیداواری منصوبوں میں قابل تجدید اور ہائیڈل ذرائع کو ترجیح دی جائے۔

انوار الحق کاکڑ نے ہدایت کی کہ تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں، ٹرانسفارمر میٹرنگ کے منصوبے کے اطلاق کیلئے جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے واجبات کے نادہندگان کے خلاف صوبوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر فوری طور پر کاروائی شروع کی جائے، بجلی کے نادہندگان اور بجلی چوروں کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ چھوٹے ہائیڈل منصوبوں کیلئے ماہرین کی رہنمائی میں منصوبے بنا کر پیش کئے جائیں، ایسے منصوبے نہ صرف کم لاگت بجلی پیدا کریں گے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں میں مہنگے درآمدی کوئلے کی بجائے مقامی کوئلے کو ترجیح دی جائے، 2400 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبوں کی تعمیر پر جلد سے جلد کام شروع کیا جائے اور اس پورے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ہدایت کی کہ بجلی چوری کرنے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی شروع کی جائے اور اس پر پیشرفت پر روزانہ کی بنیادوں پر رپورٹ پیش کی جائے، حکومت بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

نگران حکومت نے بجلی بلوں پر ریلیف دینے کا پلان بنا لیا

نگران حکومت نے بجلی بلوں پر ریلیف دینے کا پلان بنا لیا، 3 سو یونٹ استعمال کرنے والوں کو 3 ہزار روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ستمبر میں تین سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں میں تین ہزار روپے کمی ہو گی، 60 سے 70 ہزار روپے بل والوں کو 13 ہزار روپے کا ریلیف ملے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران حکومت نے ریلیف پلان آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کردیا، حکومت کو آئی ایم ایف کی جانب سے گرین سگنل کا انتظار ہے۔

دوسری طرف وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے کیلئے ماہ رواں میں کسی وقت بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 4روپے 96پیسے فی یونٹ اضافے پر غور کر رہی ہے جس کا بوجھ صارفین پر پڑیگا۔

متعلقہ خبریں