یورپ کی تاریخ کا دوسرا بڑا ریفیوجی کرائسس سامنے آگیا، یورپ میں ایک بار پھر سیاسی پناہ کے خواہشمند افراد کا سونامی امڈ آیا۔
اٹلی کے جزیرے لامپے ڈوسہ پر ایک دن میں 7000 افراد کے کشتیوں پر پہنچنے کے بعدایک بار پھر ریفیوجی کرائسس یورپ بھر کے میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بن گیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر نے اٹلی کے مذکورہ جزیرے کا ہنگامی دورہ کیا جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی آمد کا مسئلہ یورپ کا مسئلہ ہے اور ہم اس کا جواب یورپین انداز میں دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ہم کریں گے کہ کون کب اور کیسے یورپ میں آئے گا ، انسانی اسمگلرز اور ٹریفکرز اس بات کا فیصلہ ہرگز نہیں کرسکتے۔ ہم ماضی میں بھی اس قسم کے مسائل سے بخوبی نمٹ چکے ہیں ۔
یورپی یونین کی شش ماہی رپورٹ کے مطابق پانچ لاکھ 19 ہزار افراد نے جنوری سے جون تک یورپ میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کیں جن میں پاکستانیوں کی تعداد 18032 ہے جبکہ بنگلہ دیش سے 20926 افراد نے یورپ کا رخ کیا۔
یورپی یونین نے مہاجرین کی روک تھام کے لیےتیونس اور لیبیا کے ساتھ معاہدات کیے ہیں اور یورپی یونین ان ممالک کی مالی معاونت کر رہی ہے تاکہ مہاجرین کو غیر قانون طریقے سے یورپ میں داخل ہونے سے روکا جاسکے جبکہ سربیا ، بلغاریہ اور رومانیہ کے راستے یورپ میں داخل ہونے والوں کو بھی فوری طور پر ملک بدر کیا جارہا ہے۔
خدشہ ہے کہ سال کے آخر تک سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی جبکہ اس سال لاکھوں افراد کو ملک بدر بھی کیا جاچکا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















