انوارالحق کاکڑکا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی امریکا پر سازش کے بیانیے سے خود پیچھے ہٹے، انھیں آئینی طریقے سے برطرف کیا گیا۔
دورہ امریکا کے دوران ترکی ٹی وی ٹی آر ٹی کو دیے گئے انٹرویومیں نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ آئین میں حکومت ہٹانے اورتشکیل دینے کا طریقہ کاردرج ہے، پاکستان خودمختار ملک ہے، قومی مفاد میں فیصلےکرتے ہیں، یقینی بنائیں گے کوئی بیرونی طاقت پاکستان میں مداخلت نہ کرے۔
انوارالحق کاکڑنے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی امریکاپرسازش کےبیانیےسےخودپیچھےہٹے، چیئرمین پی ٹی آئی کو آئینی طریقے سے برطرف کیاگیا، بعض اوقات سیاستدان عوامی حمایت کیلئے ایسامؤقف اپناتےہیں، الیکشن کمیشن بھی کوئی غیرآئینی کام نہیں کرسکتا، ہم نے قانون اور آئین کے مطابق عمل کرنا ہے۔
نگراں وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انتخابی حلقہ بندیاں آئینی ضرورت ہیں، انتخابی حلقہ بندیوں پراعتراض قانون سازی کے وقت کیاجاسکتاتھا، پرتشددمظاہروں کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے، جمہوریت میں پرامن احتجاج ہرایک کا بنیادی حق ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہرسیاسی جماعت کےحقوق کاتحفظ کریں گے، ہم جلد انتخابی عمل میں داخل ہونےجارہےہیں، یقین دلاتا ہوں انتخابی عمل مکمل شفاف اورآزادانہ ہوگا، انتخابی عمل میں کسی خاص گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں ہوگی، بدقسمتی سےتین چاردہائیوں سےسویلین اداروں کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

















