روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اسرائیل و غزہ تنازعہ کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھرادیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ میں تیزی سے بڑھتا ہوا اضافہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی پالیسی کی ناکامی کی واضح مثال ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورے پر آئے عراقی وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ امریکہ نے خطے میں اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں بہت سے لوگ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی سیاست کی ناکامی کی واضح مثال ہے۔
اس سے قبل روسی ترجمان دمتری پیسکوف کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ روس اسرائیل اور فلسطین سے بات چیت کررہا ہے تاکہ دونوں فریقین کے درمیان کوئی حل تلاش کیا جاسکے۔
علاوہ ازیں جب ان سے فلسطینی رہنما محمود عباس کے دورہ روس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس دورے کی منصوبہ بندی جنگ سے پہلے کی گئی تھی تاہم دورے کی تاریخ کا حتمی اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: قطر کی اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کی پیشکش
یاد رہے کہ ہفتے کی صبح حماس نے اچانک اسرائیل پر 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کرکے کارروائی کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں اسرائیلی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے کئی رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت سیکڑوں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















