غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد واضح اکثریت سے منظور کرلی گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی قرارداد واضح اکثریت سے منظور ہوگئی۔
یہ قرارداد 22 عرب ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اردن نے پیش کی جس میں فوری سیزفائر کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد کو غزہ میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور اسرائیلی بمباری کے خاتمے کے لیے 50 کے قریب دیگر ممالک نے بھی کو اسپانسر کیا۔
قرارداد میں پانی، خوراک، طبی سامان، ایندھن اور بجلی کی فوری فراہمی اور اقوام متحدہ اور فلسطینیوں کی مدد کرنے کی کوشش کرنے والے دیگر فلاحی اداروں کے لیے بلا روک ٹوک رسائی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے 195 اراکین میں سے 120 اراکین نے قرارداد کی حمایت کی، 14 اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 45 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
اس قرارداد میں حماس کا ذکر شامل نہیں تھا جس پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے تنقید کی گئی۔
اس سےقبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد امریکا اور برطانیہ نے ویٹو کردی تھی۔
دوسری جانب حماس نے اقوام متحدہ میں منظور کی گئی قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غزہ میں شہریوں کے لیے انسانی امداد اور ایندھن فوری طور پر بھیجا جائے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















