غزہ میں چوبیسویں روز بھی جاری اسرائیلی بمباری سے فلسطینی شہداء کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
بین الاقوامی خبرر ساں ادارے کے مطابق غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 3 ہزار 300 بچوں اور ایک ہزار سے زائد خواتین سمیت 8 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی بمباری سے زخمیوں کی تعداد بھی 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے ترکش اسپتال کو نشانہ بنایا، وسطی غزہ میں اسرائیلی بمباری سے دیرالبلا کی مسجد بلال بن رباح شہید ہوگئی۔
اسرائیل نے غزہ کے سب سے بڑے الشفاء اسپتال کے قریب بم برسا دیے، القدس اسپتال کو خالی کرنے کی دھمکی دی اور اس اسپتال کے آنے والے راستوں کو تباہ کردیا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل رہائشی عمارتوں، اسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔گزشتہ روز ایک صحافی کے گھر پر بمباری کے نتیجے میں ان کی بیوی اور بیٹی شہید ہوگئی۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے فضائی حملوں میں نصیرات کیمپ کے قریب ایک بازار کو نشانہ بنایا تھا جس میں پناہ گزینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اسرائیلی حملوں میں ایک مکان بھی تباہ کیا گیا تھا۔
فلسطینی میڈیا نے اسرائیلی بربریت کو اب تک کی بدترین بمباری قرار دے دیا۔
اسرائیلی فورسز نے الشفاء اور القدس اسپتال کے قریبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ مغربی کنارے میں 2 نوجوان شہید ہوئے جبکہ ڈاکٹر سمیت 7 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
اسرائیلی فورسز نے غزہ میں اسکول کو بھی نشانہ بنایا تھا ، جہاں بمباری میں بے گھر ہونےوالے معصوم شہری مقیم تھے۔
القسام بریگیڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے علاقے میں حملہ کیا جس پر جوابی کارروائی میں اسرائیل کے ایک ٹینک اور دو فوجی بلڈوزرز تباہ کر دیے گئے۔
ایک فوجی ہلاک اور تین اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے جبکہ دیگر اسرائیلی فوجی گاڑیاں چھوڑ کر پیدل اسرائیل فرار ہوگئے۔
دوسری جانب حماس فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مزید دو یرغمالی معمر اسرائیلی خواتین کو رہا کردیا۔
رہا کئی گئیں دونوں معمر خواتین 79 سالہ نوریت کوپر اور 85 سالہ یوشیوڈ لیفشٹز کا تعلق اسرائیل سے ہے۔دونوں خواتین کو انٹرنیشنل ریڈ کراس کے ذریعے اسرائیلی حکام کے حوالے کیا گیا۔
حماس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ دشمن نے ان کو قبول کرنے سے انکار کیا اور ہمارے قیدیوں کے معاملے کو نظر انداز کیا اس کے باوجود اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















