ڈھاکہ؛: حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس سے جھڑپوں میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کی جانب سے وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے جنوری میں انتخابات سے قبل اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا جس کے بعد متعدد شہروں اور قصبوں میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔
بلوچستان نیشنلسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہفتے کو نکلنے والی ریلی کے دوران ناکہ بندی کردی جس میں ہزاروں مظاہرین شریک تھے۔
دارالحکومت ڈھاکہ کے شمال میں واقع قصبے کلیارچار کے ڈپٹی پولیس چیف الامین نے کہا کہ بی این پی کے دو ارکان جاں بحق ہوگئے ہیں لیکن ان کی موت کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔
بی این پی کے عہدیدار شریف العالم نے الزام عائد کیا کہ دونوں مظاہرین کو پولیس نے ایک ریلی کے دوران گولی مار کر قتل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے آخر فائرنگ کرنا شروع کردی جس کے نتیجے میں ایک بی این پی کا کارکن موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جب کہ دوسرے نے اسپتال میں دم ٹوڑا۔
شریف العالم نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
خیال رہے کہ حکومت مخالف مظاہروں پر بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور اپوزیشن لیڈر مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو پولیس نے ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خفیہ مقام پر منتقل کردیا ہے۔
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کمشنر حبیب الرحمٰن کے مطابق انہیں ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے مخالف جماعتوں کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’’کیا وہ انسان ہیں؟ جنہوں نے ایک بے گناہ پولیس اہلکار کو قتل کیا، ہم قاتلوں سے ملاقات کیوں کریں اور کیوں ان سے مذاکرات کریں؟
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















