سال 2021 میں ایک مسلمان خاندان پر ٹرک چڑھانے والے 22 سالہ کینیڈین شہری پر 4 مسلمانوں کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوگیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں ایک مسلمان خاندان پر جان بوجھ کر ٹرک چرھانے والے 22 سالہ کینڈین شہری نیتھینیئل ویلٹمین کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنادی۔
کینیڈین شہری پر اقدام قتل کے الزامات بھی ثابت ہوئے ہیں اور سزا ملنے کے بعد 25 سال تک انہیں پرول پر رہائی ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے کیوں کہ نیتھینیئل ویلٹمین کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفید فام قوم پرست ہیں اور امیگریشن کے سخت مخالف ہیں۔
خیال رہے کہ 8 جون 2021 کو کینیڈا کے جنوبی صوبہ اونٹاریو میں ایک شخص نے پک اَپ ٹرک کے ذریعے ایک مسلمان خاندان کو کچل دیا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
جاں بحق ہونے والوں میں سلمان افضال، ان کی اہلیہ، صاحبزادی اور والدہ جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ جوڑے کا 9 سالہ بیٹا شدید زخمی ہوا تھا جس کا علاج اب بھی جاری ہے۔
امام ابوالفتح توکل نے عدالت کے باہر فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کا فیصلہ نفرت اور اسلامو فوبیا کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی اقدام ہے، یہ سیاہ فام قوم پرست دہشتگردی کے خلاف ایک مثال قائم ہوگئی ہے اور اس سے واضح پیغام جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مسلمان خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قتل کوئی حادثہ نہیں تھا، یہ ایک دہشت گرد حملہ تھا، جو ہماری برادریوں میں سے ایک کے دل میں نفرت کا نتیجہ تھا۔




















