Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بدعنوانی میں ملوث عناصر کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی، نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ نےکہا ہے کہ بدعنوانی میں ملوث عناصر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت بورڈ آف ریونیو کا اجلاس ہوا جس میں خانہ کاشت سے متعلق مختلف امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن میں سست روی  پر وزیر اعلیٰ کے نوٹس کے بعد ایک ہفتے میں کمپیوٹرائزیشن کے عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے، صوبے کے مختلف اضلاع میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آپریشنل موضع جات میں 30 موضع جات کا اضافہ ہوا ہے۔

بریفنگ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ مجموعی طور پر آپریشنل موضع جات کی تعداد 2356 سے بڑھ کر 2386 ہوگئی ہے جبکہ ایک ہفتے میں مینوئل موضع جات کی تعداد 813 سے کم ہوکر 474 ہوگئی ہے۔

بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ 11 دنوں میں بنوں کے 10، ایبٹ آباد 6, چار سدہ 7, پشاور 3, بٹگرام 3, اور سوات و شانگلہ کے ایک ایک موضوع جات لائیو ہوگئے ہیں جبکہ گزشتہ 11 دنوں میں ہری پور کے 15 ، سوات 10, شانگلہ 11, بنوں 44, پشاور 15، ڈی آئی خان 159, بٹگرام کے 7 موضع جات کے مینوئل انتقالات بند کردیئے گئے ہیں۔

بریفنگ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن مکمل کرنے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کے لیے اہداف مقرر کر دیئے گئے ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے پی ایم آر یو کے پورٹل پر لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن ٹریکنگ سسٹم تیار کیا گیا ہے۔

بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں بورڈ آف ریونیو کی ٹیموں نے کوہاٹ ، پشاور، چارسدہ، لکی مروت ، ڈی آئی خان اور ٹانک کے اچانک دورے کیے ہیں جبکہ اچانک دوروں کے دوران مختلف اضلاع میں تعینات افسران و اہلکاروں کو ناقص کارکردگی و غفلت پر معطل کیا گیا ہے۔

بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو لینڈ ریکارڈ اور ریکارڈ روم کی حفاظت کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایت کر دی گئی ہے جبکہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو ریکارڈ روم کے لیے آگ بجھانے والے آلات، الیکٹریفیکیشن، ریکنگ، سی سی ٹی کیمروں سے متعلق معلومات طلب کر لی گئی ہے تاکہ درکار فنڈز فراہم کیے جائیں۔

 اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہدایت کی کہ خانہ کاشت سمیت پٹوار سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لئے دئے گئے ٹائم لائینز کے مطابق پیشرفت یقینی بنایا جائے، لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے عوام کے کافی مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔

 جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ پٹوار سسٹم کو ٹھیک کرنا جہاد کے مترادف ہے اس میں سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہے، اس مقصد کے لیے دن رات لگن سے کام کی ضرورت ہے جبکہ پٹوار سسٹم میں اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پٹوار نظام میں اچھی کارکردگی کے حامل اہلکاروں کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ بدعنوانی میں ملوث عناصر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ نے ہدایت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف پرچے درج کرکے فوجداری کارروائیاں شروع کی جائیں۔

متعلقہ خبریں