Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آسٹریلیا کے ساحل پر پھنسی 30 ٹن وزنی اسپرم وہیل کی موت

آسٹریلیا کے ساحل پر ریت میں پھنسنے والی 30 ٹین وزنی اسپرم وہیل کی موت واقع ہو گئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق مغربی آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے قریب ایک مشہور ساحل پر ریت کے کنارے پھنسی اسپرم وہیل کو بچانے کی کوششوں کے باوجود منگل کے روز اس کی موت ہو گئی۔

ایک ڈرون ویڈیو فوٹیج میں ہفتے کے روز پورٹ بیچ کے قریب گہرے پانی میں بڑی وہیل کو تیرتے ہوئے دکھایا گیا ہے یہ وہیل 15 میٹر سے زیادہ لمبی تھی اور اس کا وزن 30 ٹن سے زیادہ تھا۔

وہیل مچھلی کے پھنس جانے کے بعد بہت سے لوگ تیر کر اس کے قریب پہنچ گئے، اسے چھورہے تھے اور سیلفیاں لے رہے تھے۔

وائلڈ لائف افسران نے کئی دنوں تک اس بوڑھی وہیل کی رہنمائی کرنے کی کوشش کی، جو زخمی ہو گئی تھی اور شدید دھوپ میں گہرے پانیوں میں واپس چلی گئی تھی۔

وائلڈ لائف کے عملے نے اسپرم وہیل پر پانی کا چھڑکاؤ کیا تاکہ اس کو گرم سورج کی دھوپ سے بچایا جا سکے، لیکن لاغر اور کمزور ہونے کے باعث وہ گہرے سمندر میں واپس جانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

حکومت کے سمندری ممالیہ جانوروں کے ماہر کیلی واپلز نے کہا کہ وہیل ہفتے کے روز ساحل سمندر پر پہنچنے کے بعد پہلے ہی پریشانی میں تھی اور لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے اس کے تناؤ میں مزید اضافہ ہوا۔

محکمہ حیاتیاتی تنوع، تحفظ اور کشش (ڈی بی سی اے) نے اسپرم وہیل کی لاش کو باہر نکالنے کے لئے آج صبح ساحل کو بند کردیا ہے۔

ڈی بی سی اے وائلڈ لائف اور میرین افسران نے آج صبح تقریبا ساڑھے چار بجے دیکھا کہ وہیل ریت کے بار سے 300 میٹر دور گارڈن آئی لینڈ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

وائلد لائف کے مطابق وہیل کا پانی میں جائزہ لینے کے بعد ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہیل کی موت صبح ساڑھے چھ بجے ہوئی۔

وائلڈ لائف نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا کہ آپریشن کے اگلے مرحلے میں لاش کو پانی سے باہر نکالنا شامل ہوگا۔

وہیل اینڈ ڈولفن کنزرویشن گروپ کے مطابق زندہ وہیل اکثر اکیلے ساحل پر آتی ہیں کیونکہ وہ بوڑھی، بیمار، زخمی یا بے سمت ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم یقینی طور پر کچھ پوسٹ مارٹم یا پوسٹ مارٹم تجزیہ کرنے پر غور کریں گے تاکہ وہیل کی موت اور اس نسل کے بارے میں کچھ بھی جان سکیں کیونکہ پرتھ کے اس علاقے میں اسپرم وہیل کا ہونا کافی غیر معمولی بات ہے۔

آسٹریلیا میں اسپرم وہیل کو خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں