Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئس لینڈ میں کئی ہفتوں کے زلزلوں کے بعد آتش فشاں پھٹ گیا

آئس لینڈ جزیرہ نما ریکیجینز میں گزشتہ ہفتوں سے جاری سیکڑوں زلزلوں کے بعد بالآخر آتش فشاں پھٹ گیا۔

خلیجی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق آئس لینڈ میں آج ایک آتش فشاں پھٹ رہا ہے جس کے نتیجے میں پگھلے ہوئے لاوا کے بڑے ذرات  رات کے سیاہ آسمان پر گر رہے ہیں جس کے بعد دارالحکومت کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے زلزلوں کے سلسلے میں بعض اوقات روزانہ سینکڑوں زلزلوں نے سڑکوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

Photo: AFP

آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات نے زلزلے کے جھٹکوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ماہی گیری کے قصبے گرینڈویک کے شمال میں واقع جزیرہ نما ریکیجینز میں آتش فشاں پیر کی رات 10 بج کر 17 منٹ آتش فشاں پھٹنا شروع ہوا۔

Photo: Icelandic coast guard via AP

دھماکے کی لائیو اسٹریم کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نارنگی رنگ کے لاوا زمین میں ایک گیس سے نکل رہے ہیں اور اس کے ارد گرد سرخ دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم کیٹرن جیکبسڈوٹیر نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہم بہترین کی امید کرتے ہیں لیکن یہ واضح رہے کہ یہ ایک قابل ذکر دھماکہ ہے۔

کئی ہفتوں سے نارڈک ملک شدید زلزلے کے بعد دارالحکومت کے جنوب مغرب میں جزیرہ نما میں آتش فشاں پھٹنے کی پیش گوئی کر رہا تھا، جس کی وجہ سے حکام نے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

Photo: Icelandic coast guard via AP)

محکمہ موسمیات کا اندازہ ہے کہ آتش فشاں نے تقریبا چار کلومیٹر طویل دراڑ کھول دی تھی جس کا جنوبی سرا گرینڈویک سے صرف تین کلومیٹر دور تھا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صبح 3 بجے تک آتش فشاں پھٹنے کی شدت میں استحکام آ چکا تھا تاہم یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ یہ کب تک جاری رہے گا۔

صدر گڈنی تھورلاسیئس جوہانسسن نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اب ہم یہ دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں کہ قدرت کی قوتیں کیا رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔

شہری تحفظ کے محکمے کے سربراہ ویدر رینیسن نے ایک مقامی ٹیلی ویژن اسٹیشن کو بتایا کہ یہ کوئی سیاحتی آتش فشاں نہیں ہے۔

پبلک یوٹیلٹی کمپنی لینڈزنیٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ آتش فشاں پھٹنے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں