امریکہ کے معروف اخبار نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کمپنی کے خلاف کاپی رائٹ شدہ کاموں کی خلاف ورزی پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق معروف امریکی اخبار نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کمپنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چیٹ بوٹس کی تربیت میں مدد کے لیے بغیر اجازت اس کے لاکھوں مضامین استعمال کر رہی ہیں۔
اخبار نے بدھ کے روز مین ہیٹن میں امریکی وفاقی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنیوں کے طاقتور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز نے اس کے لاکھوں مضامین کو بغیر اجازت تربیت کے لیے استعمال کیا اور کہا کہ صرف اخبار میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزیوں کی مالیت اربوں روپے ہوسکتی ہے۔
امریکی پرنٹ میڈیا میں معتبر تصور کئے جانے والے اخبار کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ غیر قانونی استعمال کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی مصنوعات تیار کرنے کے ذریعے اپنی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھا رہے ہیں.
اخبار کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کی اس خلاف ورزی نے ہماری سروس کی فراہمی میں خلل ڈالا ہے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اپنے اے آئی چیٹ بوٹس کے ذریعے کمپنیاں امریکی اخبار کی صحافت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو بغیر اجازت یا ادائیگی کے ذیلی مصنوعات بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔’
امریکہ میں سب سے زیادہ قابل احترام نیوز اداروں میں سے ایک دی ٹائمز ہرجانے کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی مانگ رہا ہے کہ کمپنیاں اس کے مواد کا استعمال بند کردیں اور پہلے سے ہی حاصل کردہ ڈیٹا کو تلف کردیں۔
اگرچہ اخبار کی جانب سے خاص طور پر کسی رقم کی درخواست نہیں کی گئی ہے لیکن اخبار نے الزام لگایا ہے کہ اس خلاف ورزی سے “قانونی اور حقیقی نقصانات میں اربوں ڈالر” کا نقصان ہوسکتا ہے۔




















